MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیاوہ ایک حرف جو مری زبان سے نکل گیا بہت زیادہ جھکنا پڑ رہا تھا اس کے سائے میںسو ایک دن میں اس کے سائبان سے نکل گیا ابھی تو تیرے اور ترے عدو کے درمیان ہوںاگر کبھی میں تھک کے درمیان سے نکل گیا مرے عدو […]

قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا Read More »

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہےاب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے مشکل ہے اک بات ہمارے مسلک کیاپنے آپ کو راز میں رکھا جاتا ہے اک شعلہ رکھنا ہوتا ہے سینے میںاک شعلہ آواز میں رکھا جاتا ہے ہم لوگوں کو خواب دکھا کر منزل کارستے کے آغاز میں رکھا جاتا ہے

لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے Read More »

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑےہر روز میرے سر پہ یہ تلوار گر پڑے اتنا بھی انحصار مرے سائے پر نہ کرکیا جانے کب یہ موم کی دیوار گر پڑے سانسیں بچھا کے سوؤں کہ دست نسیم سےشاید کسی کے جسم کی مہکار گر پڑے ٹھہرے تو سائبان ہوا نے اڑا دئےچلنے لگے تو

در ٹوٹنے لگے کبھی دیوار گر پڑے Read More »

در و دیوار سے ڈر لگ رہا تھا

در و دیوار سے ڈر لگ رہا تھاترا گھر بھی مرا گھر لگ رہا تھا اسی نے سب سے پہلے ہار مانیوہی سب سے دلاور لگ رہا تھا جسے مہتاب کہتا تھا زمانہترے کوچے کا پتھر لگ رہا تھا جگہ اب چھوڑ دوں بیٹے کی خاطروہ کل میرے برابر لگ رہا تھا خبر کیا تھی

در و دیوار سے ڈر لگ رہا تھا Read More »

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئےسوال یہ ہے کہ کتنے شجر اگائے گئے ملی ہے اور ہی تعبیر آ کے منزل پروہ اور خواب تھے رستے میں جو دکھائے گئے مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیادیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے دیے بنا کے جلائی تھیں انگلیاں ہم نےاندھیری شب کی عدالت

گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے Read More »

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھاپنے شہر کی مٹی بھی سامان میں رکھ سارے جسم کو لے کر گھوم زمانے میںبس اک دل کی دھڑکن پاکستان میں رکھ جانے کس رستے سے کرنیں آ جائیںدل دہلیز پہ آنکھیں روشندان میں رکھ جھیل میں اک مہتاب ضروری ہوتا ہےکوئی تمنا اس چشم حیران

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ Read More »

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میںگرتے ہوئے درخت سے کتنا بڑا ہوں میں پرچم ہوں روشنی کا مرا احترام کرتاریکیوں کا راستہ روکے کھڑا ہوں میں میرے ہرے وجود سے پہچان اس کی تھیبے چہرہ ہو گیا ہے وہ جب سے جھڑا ہوں میں مت سوچ یہ کہ میری کسی نے نہیں سنییہ

پتا ہوں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں میں Read More »

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہمرات سے اتنی سہولت بھی نہیں مانگتے ہم دشمن شہر کو آگے نہیں بڑھنے دیتےاور کوئی تمغۂ جرأت بھی نہیں مانگتے ہم سنگ کو شیشہ بنانے کا ہنر جانتے ہیںاور اس کام کی اجرت بھی نہیں مانگتے ہم کسی دیوار کے سائے میں ٹھہر لینے دےدھوپ سے اتنی رعایت

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم Read More »

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیںہم اپنی ذات کے حجرے میں رات کاٹتے ہیں عجیب لوگ ہیں اس عہد بے مروت کےزبان کاٹ نہ پائیں تو بات کاٹتے ہیں یہ لمحہ اہل محبت پہ سخت بھاری ہےیہ لمحہ اہل محبت کے ساتھ کاٹتے ہیں تھکن سے پورا بدن چور چور ہوتا ہےپہاڑ

وہ شب کے سائے میں فصل نشاط کاٹتے ہیں Read More »

زندہ پتھربن بیٹھے ہیں

Zinda Pathar Ban Bethay Hain غزل زندہ پتھربن بیٹھے ہیںکام تو اب مردے کرتے ہیں خون غریبوں کا ہوتا ہےکہنے کو پانی پیتے ہیں نفرت جھوٹا منتر بھی ہےچاہت کے سب گر سچے ہیں کھیل کھیل میں دکھ دے جاناوحشی لوگوں کے بیٹے ہیں میٹھے بول میں زہر بھرا ہےکڑوے بول محبت کے ہیں آنے

زندہ پتھربن بیٹھے ہیں Read More »