MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سیجاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتاکیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاکہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں […]

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی Read More »

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہےزور دریا کا فقط بہنے میں ہے رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگعافیت اب گھومتے رہنے میں ہے کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کرجیسے وہ ظالم مرے کہنے میں ہے چھو لیا تھا درد کی زنجیر کووہ بھی اب شامل مرے کہنے میں ہے عرشؔ وہ

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے Read More »

کسی کی زلف کا غزنی اسیر میں بھی ہوں

کسی کی زلف کا غزنی اسیر میں بھی ہوںسو پاسدار روایات میر میں بھی ہوں مجھے بھی دیکھ تو اوروں کو جیسے دیکھتا ھےتری گلی میں رہائش پذیر میں بھی ہوں محمود غزنی

کسی کی زلف کا غزنی اسیر میں بھی ہوں Read More »

ترے زوال کا آغاز ہونے والا ھے

ترے زوال کا آغاز ہونے والا ھےترے خلاف ہوئے ہیں ترے پجاری بھی تو کتنا سخت ھے اس سے نہیں غرض مجھ کوکہ کاٹ دیتی ھے لوہے کو ایک آری بھی یہ تیرا وقت ھے تو کر لے جو بھی ہوتا ھےکبھی تو بات سنے گا خدا ہماری بھی جو پچھلے صاحب مسند دکھا گئے

ترے زوال کا آغاز ہونے والا ھے Read More »

کر لیا آنکھ کو ہر رنگ سے خالی میں نے

کر لیا آنکھ کو ہر رنگ سے خالی میں نےتری تصویر جو کمرے سے نکالی میں نے قیس کی روح کو تسکین تو پہنچی ہو گیدشت کی جا کے حکومت جو سنبھالی میں نے آج یک طرفہ محبت کا اثر دیکھا ھےتالی اک ہاتھ سے کیسے یہ بجا لی میں نے محمود غزنی

کر لیا آنکھ کو ہر رنگ سے خالی میں نے Read More »

مبارک باد دینے جاؤں گا ترک تعلق کی

مبارک باد دینے جاؤں گا ترک تعلق کیجو پہلا غم ھے پہلے وہ تو آدھا کر لیا جائے تری آدھی رعایا دیکھ فٹ پاتھوں پہ سوتی ھےیہ رہنا ، سہنا کتنا اور سادہ کر لیا جائے محمود غزنی

مبارک باد دینے جاؤں گا ترک تعلق کی Read More »

میں تو اس شہر کے لوگوں کا بھی دمساز ہوا

میں تو اس شہر کے لوگوں کا بھی دمساز ہوامیری بربادی کا جس شہر سے آغاز ہوا مجھ کو نفرت سے بٹھایا گیا اک کونے میںاور مرے شعر سے تقریب کا آغاز ہوا محمود غزنی

میں تو اس شہر کے لوگوں کا بھی دمساز ہوا Read More »

بس یہی وصف مجھ میں اعلیٰ ہو – Bas yehi wasf mujh main aala ho

بس یہی وصف مجھ میں اعلیٰ ہونعت گوئی مرا حوالہ ہو عافیت پوچھتے ہیں اس کی بھیجس نے کوڑا بدن پہ ڈالا ہو اس کو پہلے گلے لگاتے ہیںجو بھی میلے لباس والا ہو خود اندھیرے سمیٹ کر ، کہتےدشمنوں کے بھی گھر اجالا ہو عظمتیں آپ بخش دیتے ہیںرنگ چاہے کسی کا کالا ہو

بس یہی وصف مجھ میں اعلیٰ ہو – Bas yehi wasf mujh main aala ho Read More »

ٹھیک ھے، ٹھیک ھے، سرکار، نہیں بولیں گے

ٹھیک ھے، ٹھیک ھے، سرکار، نہیں بولیں گےبیچ میں ، اب یہ گنہگار ، نہیں بولیں گے اب عدو دوستو ! دہلیز تک آ پہنچا ھےلے کے اب آنکھ میں ہم پیار نہیں بولیں گے مرے حصے میں ھے کیوں اتنی حزیمت آئی ؟اِس پہ کچھ صاحبِ دستار نہیں بولیں گے اب تو غربت نے

ٹھیک ھے، ٹھیک ھے، سرکار، نہیں بولیں گے Read More »