MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مثل کی کار

الگ دنیا کی کاروں سے مغل کی کار ہے پیارےسنا ہے پچھلے دس سالوں سے یہ بیمار ہے پیارے زمانے کے لئے عبرت کا اک شہکار ہے پیارےمغل کے واسطے اک مستقل آزار ہے پیارے کسی بھی کار سے زنہار چال اس کی نہیں ملتییہ وہ شے ہے کہ دنیا میں مثال اس کی نہیں […]

مثل کی کار Read More »

قیامت بن کے ٹوٹی وہ کبھی بن کر عذاب آئی

قیامت بن کے ٹوٹی وہ کبھی بن کر عذاب آئیبلائے ناگہانی سے نہیں کم میری ہمسائی وہ قینچی کی طرح اپنی زباں جس دم چلاتی ہےوہ خود سر ایک پل میں سارا گھر سر پر اٹھاتی ہے زباں کے ساتھ انگشت شہادت بھی نچاتی ہےمجھے جو بات بھی ہو یاد فوراً بھول جاتی ہے یہ

قیامت بن کے ٹوٹی وہ کبھی بن کر عذاب آئی Read More »

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیںچند قطروں سے تو بحر بیکراں بنتا نہیں چار چھ پھولوں سے اپنے گھر کا گلدستہ سجاچار چھ پھولوں سے ہرگز گلستاں بنتا نہیں کارواں کا پاس ہے تجھ کو تو پانی پر نہ چلیہ وہ جادہ ہے جہاں کوئی نشاں بنتا نہیں بے سر و ساماں پرندو

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں Read More »

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہےاک سکوت بے کراں ہر سمت بازاروں میں ہے نوبت قحط مسیحائی یہاں تک آ گئیکچھ دنوں سے آرزوئے مرگ بیماروں میں ہے وہ بھی کیا دن تھے کہ جب ہر وصف اک اعزاز تھاآج تو عظمت قباؤں اور دستاروں میں ہے اڑ رہے ہیں رنگ پھولوں

ششدر و حیران ہے جو بھی خریداروں میں ہے Read More »

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میراکوئی سمجھ نہ سکا مقصد سفر میرا سکون روح ملا حلقۂ رسن میں مجھےوگرنہ بار گراں تھا بدن پہ سر میرا میں اپنے ہاتھ کے چھالے دکھاتا پھرتا ہوںدلائے کوئی مجھے حصۂ ثمر میرا ہر اک شجر ہے مرا یوں تو سارے جنگل میںعجب ستم ہے نہیں سایۂ شجر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا Read More »

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیںکہ اعتبار کے قابل تو زندگی بھی نہیں کروں میں خون تمنا کا کس لیے ماتممرے لیے یہ مصیبت کوئی نئی بھی نہیں میں پھر بھی شام و سحر بے قرار رہتا ہوںاگرچہ گھر میں کسی چیز کی کمی بھی نہیں مجھے خبر ہے کہ انجام وصل کیا

ملال ہجر نہیں رنج بے رخی بھی نہیں Read More »

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھیجیسے اہل شہر سے میری شناسائی نہ تھی مجھ کو اک چپ چاپ سے چہرے نے زخمی کر دیامیں نے ایسی چوٹ ساری زندگی کھائی نہ تھی غور سے دیکھیں تو ہے یادوں کے رنگوں کا کمالاس قدر دل کش کبھی تصویر تنہائی نہ تھی کر دیا

کوئی دل جوئی نہیں تھی کوئی شنوائی نہ تھی Read More »

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میراکوئی سمجھ نہ سکا مقصد سفر میرا سکون روح ملا حلقۂ رسن میں مجھےوگرنہ بار گراں تھا بدن پہ سر میرا میں اپنے ہاتھ کے چھالے دکھاتا پھرتا ہوںدلائے کوئی مجھے حصۂ ثمر میرا ہر اک شجر ہے مرا یوں تو سارے جنگل میںعجب ستم ہے نہیں سایۂ شجر میرا

رواں ہے قافلۂ جستجو کدھر میرا Read More »

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیںچند قطروں سے تو بحر بیکراں بنتا نہیں چار چھ پھولوں سے اپنے گھر کا گلدستہ سجاچار چھ پھولوں سے ہرگز گلستاں بنتا نہیں کارواں کا پاس ہے تجھ کو تو پانی پر نہ چلیہ وہ جادہ ہے جہاں کوئی نشاں بنتا نہیں بے سر و ساماں پرندو

صرف کہنے کو کوئی عظمت نشاں بنتا نہیں Read More »

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کاشہر میں ڈھیر نہ لگ جائے گریبانوں کا یہ مرا ضبط ہے یا تیری ادا کی تہذیبرنگ آنکھوں میں جھلکتا نہیں ارمانوں کا میکدے کے یہی آداب ہیں رندو سن لوغم نہیں کرتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا سانس لینے کو کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈوشہر جنگل سا

حال کچھ اب کے جدا ہے ترے دیوانوں کا Read More »