برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا
برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھاجسم بھی تھوڑا پھیل گیا تھا رنگ بھی کچھ کچھ میلا تھا تم بھی جس کو دیکھ رہے تھے وہ جو ایک اکیلا تھادبلا پتلا الجھا حیراں ارمانوں کا میلا تھا جھیل کا شیشہ نیلے بادل کے ہونٹوں سے بھیگا تھادور تلک شاخوں کے نیچے […]
برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا Read More »