MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھاجسم بھی تھوڑا پھیل گیا تھا رنگ بھی کچھ کچھ میلا تھا تم بھی جس کو دیکھ رہے تھے وہ جو ایک اکیلا تھادبلا پتلا الجھا حیراں ارمانوں کا میلا تھا جھیل کا شیشہ نیلے بادل کے ہونٹوں سے بھیگا تھادور تلک شاخوں کے نیچے […]

برسوں بعد جو دیکھا اس کو سر پر الجھا جوڑا تھا Read More »

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہاجب کبھی کمرے میں میں تنہا رہا عمر کی ندی چڑھی، اتری، گئیجسم کا صحرا مگر جلتا رہا دن کو تپتی فائلوں کی ریت پرمیں تو ابرق کی طرح بکھرا رہا رات بھر اک جسم کی دیوار سےمیں کلینڈر کی طرح چپکا رہا شب پلنگ پر ہانپتے سائے رہےخواب

درد کی خوشبو سے یہ مہکا رہا Read More »

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لیناسفر طویل ہے کچھ زاد راہ لے لینا میں بے ثمر ہی سہی پھر بھی سایہ دار تو ہوںکڑی ہو دھوپ تو مجھ میں پناہ لے لینا ابھی تو ساتھ چلو ہاں جہاں میں رک جاؤںتم اس مقام سے پھر اپنی راہ لے لینا کسی مقام پہ ممکن

گھٹی گھٹی ہی سہی میری چاہ لے لینا Read More »

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپآنے والا موسم لائے شاید گیلی گیلی دھوپ قریہ قریہ کانپ رہا ہے سرد ہوا کے جھونکوں سےکتنے آنگن گرمائے گی تنہا ایک اکیلی دھوپ چنچل شوخ ادا کرنیں تو دور دشا تک جا پہنچیںبیٹھی خود کو کوس رہی ہے آنگن کی شرمیلی دھوپ عظمت کی مستحکم

جانے کتنی دیر چلے گی ساتھ مرے چمکیلی دھوپ Read More »

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتاغم جاناں کے ملبے سے غم دنیا نکل آتا یہ مانا میں تھکا ہارا مسافر ہوں مگر پھر بھیتمہارے ساتھ چلنے کا کوئی رستہ نکل آتا تری یادوں کی پتھریلی زمیں شاداب ہو جاتیاگر آنکھوں کے صحرا سے کوئی دریا نکل آتا چلو اچھا ہوا ٹھہرا

مرے بھی سرخ رو ہونے کا اک موقع نکل آتا Read More »

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہےامام وقت کو پھر کربلا کی حاجت ہے کہیں نہ تجھ کو ترا شوق بے لباس کرےترے جنوں کو جو میری قبا کی حاجت ہے کہاں سے آئے ابابیل ابرہہ کے لئےترے بشر کو تو مال و غنا کی حاجت ہے عجیب طرز تکلم ہے اہل منصب

اسی یقین اسی دست و پا کی حاجت ہے Read More »

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہےدوریاں منزلوں کی سمٹتی رہیں لمحہ لمحہ وہ نزدیک آتے رہے زندہ مچھلی کی شاید تڑپ تھی انہیں سارے بگلے سمندر کی جانب اڑےریت کے زرد کاغذ پہ کچھ سوچ کر نام لکھ لکھ کے تیرا مٹاتے رہے نرم چاہت کی پھیلی ہوئی گھاس کو

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے Read More »

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیںکتنی ویران ہے یہ آنکھ کہ آنسو بھی نہیں میرے دل کو مرے احساس کو چھو جاتی تھیبھیگے بھیگے ترے بالوں کی وہ خوشبو بھی نہیں ہائے وہ پہلے پہل تیری جدائی کی گھڑیاب تو پینے کی کوئی چاہ کوئی خو بھی نہیں جو غم دہر

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں Read More »

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھاتم نے بس اک سمجھا مجھ کو تم نے بس اک جانا تھا تم بن سجنی جیون اپنا سونا آنگن ٹوٹا سپنادل کو تم سے راہ تھی اتنی ہم نے کب یہ جانا تھا میں تو پاپی میری خاطر اپنا سب کچھ دان کیا کیوںدنیا

ویسے تو تھے یار بہت پر کسی نے مجھے پہچانا تھا Read More »

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کےوہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شاملال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے کہکشاؤں میں تڑپتے تھے ستاروں کے پرندسبز آکاش پہ ہر سو تھے بچھے جال اس

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے Read More »