MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بس دیکھتے ہیں ہر شب جو خواب عاشقی کے

Bus Dekhty Hain Her Shab jo khowab aashqi kay غزل بس دیکھتے ہیں ہر شب جو خواب عاشقی کےآتے نہیں ہیں ان کو آداب عاشقی کے زلفوں کے پیچ وخم کو تقدیر جانتے ہیں ان کی زبان پر ہیں القاب عاشقی کے جن کے خیال میں ہے صحرا کی بد نصیبینہ ان کے پاس دیکھو مہتاب عاشقی […]

بس دیکھتے ہیں ہر شب جو خواب عاشقی کے Read More »

سسکیاں لینے لگی ہے چاندنی

Siskiaan Lenay Lagi Hay chandni غزل سسکیاں لینے لگی ہے چاندنیکس مصیبت میں پڑی ہے چاندنی آسماں سے درد لیکر آئی تھیپھول صورت کھل رہی ہے چاندنی راستوں پر شور ہے احباب کاخامشی سے سن رہی ہے چاندنی وقت نے آواز دی ہے پھر مجھےمیرا رستہ دیکھتی ہے چاندنی تہمتوں کی رت گذر جانے کے

سسکیاں لینے لگی ہے چاندنی Read More »

دیکھتا ہوں میں بھی اکژ آئینہ

Dekhta Hoon main bhi aksar Aaina غزل دیکھتا ہوں میں بھی اکژ آئینہظرف کو اپنا بنا کر آئینہ میں کنار آبجو بیٹھا رہوںکیا کوئی ہے اس سے بہتر آئینہ پھول کی خوشبو ہوا کے دوش پررقص کرتی ہے چھپا کرآئینہ میں کسی شہزادئ بےنام سےکیسے مانگوں گا مکرر آئینہ کوئی تو چہرہ اسے ایا ہے

دیکھتا ہوں میں بھی اکژ آئینہ Read More »

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیںہمارے پیروں میں کتنے چھالے پڑے ہوئے ہیں کہیں تو جھکنا پڑے گا نان جویں کی خاطرنہ جانے کس کے کہاں نوالے پڑے ہوئے ہیں وہ خوش بدن جس گلی سے گزرا تھا اس گلی میںہم آج بھی اپنا دل سنبھالے پڑے ہوئے ہیں ہماری خاطر بھی

کہیں سے نیلے کہیں سے کالے پڑے ہوئے ہیں Read More »

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہےمرے بدن کے کفن میں یہ لاش کس کی ہے تجھے خیال میں لا کر گل و نجوم کے ساتھیہ دیکھنا ہے کہ اچھی تراش کس کی ہے خیال و خواب کی گلیوں میں بھی ہے ویرانیمری اداس نظر کو تلاش کس کی ہے تمہارا

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے Read More »

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیامیں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا بہم جو محفل اغیار میں رہے تھے کبھییہ سلسلہ بھی شناسائیوں نے توڑ دیا بس ایک ربط نشانی تھا اپنے پرکھوں کیاسے بھی آج مرے بھائیوں نے توڑ دیا تو بے خبر ہے مگر نیند سے بھری لڑکیمرا بدن تری انگڑائیوں

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا Read More »

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوںمیں انتظار کی ہر کیفیت سے گزرا ہوں سب اپنے اپنے دیوں کے اسیر پائے گئےمیں چاند بن کے کئی آنگنوں میں اترا ہوں کچھ اور بڑھ گئی بارش میں بے بسی اپنینہ بام سے نہ کسی کی گلی سے گزرا ہوں پکارتی تھی مجھے ساحلوں کی خاموشیمیں

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں Read More »

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہےتری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے دل و نظر میں ہزار اختلاف ہوں لیکنجو عشق ہے تو پھر ان کو بہم بھی رکھنا ہے بچھڑنے ملنے کے معنی جدا جدا کیوں ہیںہر ایک بار جب آنکھوں کو نم بھی رکھنا ہے حسین ہے تو اسے

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے Read More »

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیےخیال اسی کے تھے سو سو طرح سے باندھ لیے وہ بن سنور کے نکلتی تو چھیڑتی تھی صباپھر اس نے بال ہی اپنے صبا سے باندھ لیے ملے بغیر وہ ہم سے بچھڑ نہ جائے کہیںیہ وسوسے بھی دل مبتلا سے باندھ لیے ہمارے دل

سخن جو اس نے کہے تھے گرہ سے باندھ لیے Read More »

زندگانی کو عدم آباد لے جانے لگا

زندگانی کو عدم آباد لے جانے لگاہر گزرتا دن کسی کی یاد لے جانے لگا ایک محفل سے اٹھایا ہے دل ناشاد نےایک محفل میں دل ناشاد لے جانے لگا کس طرف سے آ رہا ہے کارواں اسباب کاکس طرف یہ خانماں برباد لے جانے لگا اک ستارہ مل گیا تھا رات کی تمثیل میںآسمانوں

زندگانی کو عدم آباد لے جانے لگا Read More »