MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوںابھی میں اپنے حجابات میں پڑا ہوا ہوں مجھے یقیں ہی نہیں آ رہا کہ یہ میں ہوںعجب توہم و شبہات میں پڑا ہوا ہوں گزر رہی ہے مجھے روندتی ہوئی دنیاقدیم و کہنہ روایات میں پڑا ہوا ہوں بچاؤ کا کوئی رستہ نہیں بچا مجھ میںمیں اپنے […]

ظہور کشف و کرامات میں پڑا ہوا ہوں Read More »

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میںاس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلاایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیںصبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں ہر

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں Read More »

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھاوہ میرا پہلا پہلا تجربہ تھا اگرچہ دکھ ہمارے مشترک تھےمگر جو دو دلوں میں فاصلہ تھا کبھی اک دوسرے پر کھل نہ پائےہمارے درمیاں اک تیسرا تھا وہ اک دن جانے کس کو یاد کر کےمرے سینے سے لگ کے رو پڑا تھا اسے بھی پیار تھا اک

اسے چھوتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا Read More »

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوںرات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میںاس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میراخال و خد لے کے میں ہم راہ کدھر جاتا ہوں دل ٹھہر جاتا ہے

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں Read More »

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میںمختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہےاب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دلاس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں Read More »

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھےدوسرا عشق ہوا پہلے کے دوران مجھے تیرے اندر کی اداسی کے مشابہ ہوں میںخال و خد سے نہیں آواز سے پہچان مجھے اجنبی شہر میں اک لقمے کو ترسا ہوا میںمیزباں جسموں نے سمجھا نہیں مہمان مجھے ایک ہی شکل کے سب چہرے تھے لیکن پھر بھیایک

سخت مشکل میں کیا ہجر نے آسان مجھے Read More »

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کرہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر یقین کر او محبت یہی مناسب ہےزیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط ندامت ہےتو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر مجھے پتہ ہے کہ برباد

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر Read More »

نذیر قیصر کی شاعری

دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہےہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہےکس کو پتھر ماریں قیصر کون پرایا ہےشیش محل میں ہر اک چہرہ اپنا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگےمیں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگےجو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبوکہ آس پاس کی لہروں

نذیر قیصر کی شاعری Read More »

شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے

شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہےوہ مجھے بانہوں میں کَستی ہی چلی جاتی ہے چُومتا جاتا ہُوں مَیں پھولوں بھری ڈالی کواور خوش بُو مجھے ڈَستی ہی چلی جاتی ہے دُور تک پھول برستے ہی چلے جاتے ہیںجب وہ ہنستی ہے تو ہَنستی ہی چلی جاتی ہے دیر سے بیٹھے ہیں دو

شام ِ رُخصت کہ ترستی ہی چلی جاتی ہے Read More »

اب کے یوں اس کو صدا دی جائے

اب کے یوں اس کو صدا دی جائےکوئی دیوار گرا دی جائے اب اندھیرا بھی ہے سناٹا بھیشمعِ آواز جلا دی جائے گھر کی سہمی ہوئی دیواروں پرکوئی تصویر بنا دی جائے جس کو دیکھا بھی نہ ہو جی بھر کےکیسے وہ شکل بھلا دی جائے اتنا تنہا ہوں کہ جی چاہتا ہےآسمانوں کو صدا

اب کے یوں اس کو صدا دی جائے Read More »