MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب درد کا قصہ چھوڑ دیا

Jab Dard ka qissa choor diya غزل جب درد کا قصہ چھوڑ دیا آنکھوں نے برسنا چھوڑ دیا ہر زخم پہ جس کا احساں تھا میں نے وہ مسیحا چھوڑ دیا احساس کی ہر دیوار گریجب دل نے ڈرنا چھوڑ دیا میں رات اندھیرا اوڑھوں کیوں جب دھوپ اجالا چھوڑدیا اربابِ محبت نے ساربؔ کیوں […]

جب درد کا قصہ چھوڑ دیا Read More »

جب سچے رشتے توڑو گے

Jab sachay Rishtay Tooro Gay غزل جب سچے رشتے توڑو گے پھر کس سے ناطہ جوڑو گے جو لوگ سمندر جیسے ہیں رخ کیسے اُن کا موڑو گے جو خون میں رچ کے بہتا ہے اس درد کو کیسے اوڑھو گے ہر خواہش پتھر جیسی ہے تم کب تک پتھر پھوڑو گے ہر سانس نئی

جب سچے رشتے توڑو گے Read More »

اس کی جانب سے آزمائش تھی

اس کی جانب سے آزمائش تھی میری جاں پہ بڑی نوازش تھی مسکرا کر وہ دیکھ لے مجھ کو میرے دل کی فقط یہ خواہش تھی تشنگی بھر کے دیکھتا مجھ کو بس یہی تو مری گزارش تھی میں ترستا رہا محبت کو ! دشمنوں کی عجیب سازش تھی درد سہتا رہوں خموشی سے مرے

اس کی جانب سے آزمائش تھی Read More »

میں ہواؤں میں اگر پھول کھلانا چاہوں

Main Hawaoon Main agar phool khilana chahoon غزل میں ہواؤں میں اگر پھول کھلانا چاہوں جاں کے صحرا میں ترا عکس جگانا چاہوں لوگ چہروں کو اندھیروں میں چھپانا چاہیں میں اندھیروں کو اجالوں سے اُگانا چاہوں دشمنِ جاں نے تماشا جو دکھایا مجھ کو میں تماشوں کو دل و جاں میں سجانا چاہوں تشنہ

میں ہواؤں میں اگر پھول کھلانا چاہوں Read More »

زندگی بس سوال کرتی رہی بے

Zindagi Bus Sawaal Karti Rahi غزل زندگی بس سوال کرتی رہی بے یعنی بے بس نڈھال کرتی رہی ساری دنیا کا بار تھا جاں پرپھر بھی میرا خیال کرتی رہی ساری دنیا سے لڑرہا تھا میں موت مجھ کو مثال کرتی رہی وہ عدالت کہ زندگی جس میں ماتمِ عرضِ حال کرتی رہی بھیڑ لگتی

زندگی بس سوال کرتی رہی بے Read More »

ناتوانی سی ناتوانی ہے

ناتوانی سی ناتوانی ہےختم ہونے کو اب کہانی ہے ساری تحریر ہو گئی غارتاب تو جو کچھ بھی ہے زبانی ہے کچھ سمجھ میں مرے نہیں آتاکون مورکھ ہے کون گیانی ہے تم پریشان ہو رہے ہو کیوںداؤ پر میری زندگانی ہے در و دیوار پر نظر رکھناسخت مشکل میں نگہبانی ہے بند کمرے میں

ناتوانی سی ناتوانی ہے Read More »

یہ شہر شہرِ رفیقاں ہے اور کیا کہیے

یہ شہر شہرِ رفیقاں ہے اور کیا کہیےمتاعِ دردِ میسر ہے مرحبا کہیے لہو لہو ہے چمن تات تار پیراہنجنوں کا پھر بھی تقاضا ہے مدعا کہیے جو لفظ میں نے سنا آپ سے وہ نفرت تھاجو لفظ میں نے کہا آپ سے سنا کہیے ہر ایک چہرے پہ لکھی ہے ایک سی تحریرکسے سمجھیے

یہ شہر شہرِ رفیقاں ہے اور کیا کہیے Read More »

صرف تنکوں کے سہارے لوگو

صرف تنکوں کے سہارے لوگوکون پہنچا ہے کنارے لوگو جانے کیوں زخموں کی سوغات لیےآئے ہیں پاس تمہارے لوگو بزمِ یاراں کا تصور کیساسب ہیں تنہائی کے مارے لوگو ایک ہنگامہء محشر ہے بپاکون اب کس کو پکارے لوگو اور کچھ روز کی ہے بات اب کےزخم بھر جائیں گے سارے لوگو زیست جس طرح

صرف تنکوں کے سہارے لوگو Read More »

یہ جنسِ گراں ہے کسی معیار تک آؤ

یہ جنسِ گراں ہے کسی معیار تک آؤیوسف کے خریدار ہو بازار تک آؤ ٹوٹے تو کسی طور سکوتِ شبِ زنداںلب چپ ہیں تو آنکھوں سے ہی اظہار تک آؤ دم لینے کی جا دار یے دیوار نہیں ہےیہ سوچ کے اب سایہء دیوار تک آؤ راتوں کا سفر دن کے اجالوں سے ہے بہتربے

یہ جنسِ گراں ہے کسی معیار تک آؤ Read More »

غلط کی ہجر میں حاصل مجھے قرار نہیں

غلط کی ہجر میں حاصل مجھے قرار نہیںاسیر یاس ہوں پابند انتظار نہیں ہے ان کے عہد وفا سے مناسبت دل کواسے قیام نہیں ہے اسے قرار نہیں یہاں تو ضبط جنوں پر نہ کر مجھے مجبورفضائے دشت ہے اے عقل بزم یار نہیں قفس میں ڈالے گا کس کس کو آخر اے صیاداسیر دام

غلط کی ہجر میں حاصل مجھے قرار نہیں Read More »