Zindagi Bus Sawaal Karti Rahi
غزل
زندگی بس سوال کرتی رہی بے
یعنی بے بس نڈھال کرتی رہی
ساری دنیا کا بار تھا جاں پر
پھر بھی میرا خیال کرتی رہی
ساری دنیا سے لڑرہا تھا میں
موت مجھ کو مثال کرتی رہی
وہ عدالت کہ زندگی جس میں
ماتمِ عرضِ حال کرتی رہی
بھیڑ لگتی رہی چراغوں کی
تیرگی انتقال کرتی رہی
اک دعا تھی کسی کے ہونٹوں کی
جو مری دیکھ بھال کرتی رہی
روح تک اس وبال خانے میں
رقصِ جاں پر ملال کرتی رہی
اس سے ملنے کی آرزو ساربؔ
خواہشوں کا قتال کرتی
رشید شارب
Rasheed Sarib