MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خزاں سے پیشتر سارا چمن برباد ہوتا ہے

خزاں سے پیشتر سارا چمن برباد ہوتا ہےغضب ہوتا ہے جب خود باغباں صیاد ہوتا ہے تجھے اس پر گمان نغمۂ صیاد ہوتا ہےقفس میں نالہ کش مرغ گلستاں زاد ہوتا ہے خوشی کے بعد اک تو ہی نہیں ہے مبتلائے غمیوں ہی اکثر جہاں میں اے دل ناشاد، ہوتا ہے روا رکھتا ہے وہ […]

خزاں سے پیشتر سارا چمن برباد ہوتا ہے Read More »

وہ دل کہاں ہے اہل نظر دل کہیں جسے

وہ دل کہاں ہے اہل نظر دل کہیں جسےیعنی نیاز عشق کے قابل کہیں جسے زنجیر غم ہے خود مری خواہش کا سلسلہیا زلف خم بہ خم کہ سلاسل کہیں جسے ملتا ہے مشکلوں سے کسی کے حضور کاوہ ایک لحظہ زیست کا حاصل کہیں جسے کشتی شکستگان یم اضطراب کوتیرا ہی ایک نام ہے

وہ دل کہاں ہے اہل نظر دل کہیں جسے Read More »

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکیحسن ازل کی جلوہ نمائی نہ ہو سکی رنگ بہار دے نہ سکے خارزار کودست جنوں میں آبلہ سائی نہ ہو سکی اے دل تجھے اجازت فریاد ہے مگررسوائی ہے اگر شنوائی نہ ہو سکی مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاکمشکل یہ ہے کہ دل

دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی Read More »

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیاجو دل کا مدعا تھا مرے دل میں رہ گیا خنجر کا وار کرتے ہی قاتل رواں ہواارمان دید دیدۂ بسمل میں رہ گیا جتنی صفا تھی سب رخ جاناں میں آ گئیجو داغ رہ گیا مہ کامل میں رہ گیا اے مہربان دشت محبت چلے چلواپنا

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا Read More »

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جاناکہ ہم نے زندگی کو جادۂ راہ سفر جانا یکایک منزل آفات عالم سے گزر جاناڈریں کیوں موت سے جب ہے اسی کا نام مر جانا تری نظروں سے گر جانا ترے دل سے اتر جانایہ وہ افتاد ہے جس سے بہت اچھا ہے مر جانا جواب ابر

ہمارے واسطے ہے ایک جینا اور مر جانا Read More »

کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانۂ ویرانی مری

کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانۂ ویرانی مریمیں نکل آیا کہاں اے وائے نادانی مری کیا بناؤں میں کسی کو رہبر ملک عدماے خضر یہ سر زمیں ہے جانی پہچانی مری جان و دل پر جتنے صدمے ہیں اسی کے دم سے ہیںزندگی ہے فی الحقیقت دشمن جانی مری ابتدائے عشق گیسو میں

کم نہ تھی صحرا سے کچھ بھی خانۂ ویرانی مری Read More »

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتامری نیند اور مرا خواب کیوں نہیں ٹوٹتا ترا ذکر کرتا ہوں صبح و شام نماز میںیہ طلسم اجر و ثواب کیوں نہیں ٹوٹتا مرے خد و خال بکھرتے کیوں نہیں راہ میںترے آئینے کا سراب کیوں نہیں ٹوٹتا ترے لفظ لفظ کی منتظر ہیں سماعتیںلب حسن تیرا حجاب

ترے آسماں سے عذاب کیوں نہیں ٹوٹتا Read More »

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیںکچھ لوگ انہیں صاحب توقیر بنائیں اک خواب میں رکھیں کوئی گزرا ہوا لمحہاک خواب سے آئندہ کی تعبیر بنائیں پتھر پہ کریں نقش ترے ہجر کا قصہپانی پہ ترے وصل کی تصویر بنائیں شاید کسی زندان سے نکلے نہیں اب تکیہ لوگ جو کاغذ پہ بھی زنجیر

حیرت ہے کہ جو ظلم سے تقدیر بنائیں Read More »

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہےچلو یہ شہر بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے کسی کی گفتگو میں ایک وہ مفہوم ہے جوحقائق سے الگ ترسیل ہوتا جا رہا ہے میں کیسے ترک کر دوں اب کہ یہ کار محبتکسی کے حکم کی تعمیل ہوتا جا رہا ہے میں کیا ترتیب دینا

سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے Read More »

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہےایک نیکی مرے حصے میں بھی آئی ہوئی ہے مرے کاندھوں پہ دھرا ہے کوئی ہارا ہوا عشقیہی گٹھڑی ہے جو مدت سے اٹھائی ہوئی ہے تم تو آئے ہو ابھی دشت محبت کی طرفمیں نے یہ خاک بہت پہلے اڑائی ہوئی ہے ٹوٹ جاؤں گا اگر مجھ

میں نے بھی تہمت تکفیر اٹھائی ہوئی ہے Read More »