MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری

غزل آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری سنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخری کچھ تو آسان ہوگا عدم کا سفر ان سے کہنا تمہیں ڈھونڈھتی ہے نظر نامہ بر تو خدارا نہ اب دیر کر دے دے ان کو […]

آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری Read More »

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے

غزل غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن وہ

غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے Read More »

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

غزل میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے Read More »

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

غزل اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا Read More »

وہ سنگ تیرے نکھر گئی ہے ، تجھے خبر بھی نہیں ہے اب تک

غزل وہ سنگ تیرے نکھر گئی ہے ، تجھے خبر بھی نہیں ہے اب تک لگن میں تیری سنور گئی ہے تجھے خبر بھی نہیں ہے اب تک جو تیرے چہرے سے پردہ اُترا ، تو کیا بتاؤں کیا میں نے دیکھا جو میرے دل پر گذر گئی ہے ، تجھے خبر بھی نہیں ہے

وہ سنگ تیرے نکھر گئی ہے ، تجھے خبر بھی نہیں ہے اب تک Read More »

خواب در خواب سلسلہ ہے کیا

غزل خواب در خواب سلسلہ ہے کیا کوئی صحرا میں گل کھلا ہے کیا سوچ کر دشت میں قدم رکھنا درد سہنے کا حوصلہ ہے کیا جیتے جی مارتا ہے پیاروں کو دل کا یہ مرض لا دوا ہے کیا دیکھکر عشق کی طلب،حسن نے ہجر کی اوڑھ لی ردا ہے کیا لوگ سچ بولنے

خواب در خواب سلسلہ ہے کیا Read More »

کفر کے دور میں تھی کہاں روشنی

غزل کفر کے دور میں تھی کہاں روشنی لا مکاں میں فقط تھی نہاں روشنی آپ(ص)کے دم سےروشن زمانہ ہوا اور پھر ہر طرف تھی عیاں روشنی حسن ، دانائی ، اخلاق اور رہبری جس سے ہم کو ملی جاوداں روشنی دنیا داری کے سنگ ، دین لے کر چلو کچھ یہاں روشنی،کچھ وہاں روشنی

کفر کے دور میں تھی کہاں روشنی Read More »

بیٹھ کر ساحل پہ موجوں کو بپھرتا دیکھنا

غزل بیٹھ کر ساحل پہ موجوں کو بپھرتا دیکھنا بلبلوں کو آب پر ——- بنتا بگڑتا دیکھنا زندگی اور موت کا ، جاری ازل سے کیھل ہے آرزو میں ساحلوں کی لہروں کو مرتا دیکھنا اپنی اپنی کرنی کا پایا ہے پھل سب نے مگر حاسدوں نے کب کسی کو ہنستا بستا دیکھنا وائے ناکامی،

بیٹھ کر ساحل پہ موجوں کو بپھرتا دیکھنا Read More »

کیسے چپ چاپ سے نینوں میں ہے آتا ساون

غزل کیسے چپ چاپ سے نینوں میں ہے آتا ساون آگ برہا کی ہر اک من میں لگاتا ساون ترے صدقے ، کہ غم عشق کا پردہ رکھا ساتھ مل کر مرے ، آنسو ہے بہاتا ساون اس کی آمد سے پریشاں ہیں غریبان وطن اہل غربت پہ سدا ، قہر ہے ڈھاتا ساون اہل

کیسے چپ چاپ سے نینوں میں ہے آتا ساون Read More »

نہ پوچھو دوست ہےکیاحال دنیا کی عدالت کا

غزل نہ پوچھو دوست ہےکیاحال دنیا کی عدالت کا یہاں معیار دہرا ہے ، غربت اور امارت کا ہوا اقبال کا شاہین ،عادی عیش و عشرت کا کہاں سے لائے گا جذبہ،وہ اب شوق شہادت کا نہیں راہوں سے شکوہ کچھ،ہمیں راہبر نےلوٹاہے کہ اس نےکھیل کھیلا ہے،سیاست سے قیادت کا امیر شہر کو نسبت

نہ پوچھو دوست ہےکیاحال دنیا کی عدالت کا Read More »