MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا

غزل دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا ان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گا سر کو کبھی قدم پہ جھکایا نہ جائے گا ان کے نقوش پا کو مٹایا نہ جائے گا بے وجہ انتظار دکھانے سے فائدہ کہہ دیجئے کہ سامنے آیا نہ جائے گا آنکھوں میں اشک قلب پریشاں نظر […]

دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا Read More »

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا

غزل تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا ترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیا رند خراب نوش کی بے ادبی تو دیکھیے نیت مے کشی نہ کی ہاتھ میں جام لے لیا ہائے وہ پیکر ہوس ہائے وہ خوگر قفس بیچ کے جس نے آشیاں حلقۂ دام لے

تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیا Read More »

مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکارا

غزل مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکارا ترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیارا وہ اگر برا نہ مانیں تو جہان رنگ و بو میں میں سکون دل کی خاطر کوئی ڈھونڈ لوں سہارا مجھے تجھ سے خاص نسبت میں رہین موج طوفاں جنہیں زندگی تھی پیاری انہیں مل گیا کنارا

مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکارا Read More »

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے

غزل جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے ہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہے جہاں عشق میں ڈوب کر رہ گئے ہیں وہیں پھر ابھرنے کو جی چاہتا ہے وہ ہم سے خفا ہیں ہم ان سے خفا ہیں مگر بات کرنے کو جی چاہتا ہے ہے مدت سے بے رنگ نقش محبت کوئی

جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہے Read More »

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں

غزل بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں مرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں کشتئ غیرت‌ احساس سلامت یا رب آج طوفان کے آثار نظر آتے ہیں انقلاب آیا نہ جانے یہ چمن میں کیسا غنچہ و گل مجھے تلوار نظر آتے ہیں جن کی آنکھوں سے چھلکتا تھا کبھی رنگ خلوص ان

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں Read More »

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے

غزل کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے ترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہے کہاں جام غم کی تلخی کہاں زندگی کا درماں مجھے وہ دوا ملی ہے جو مری دوا نہیں ہے تو بچائے لاکھ دامن مرا پھر بھی ہے یہ دعویٰ ترے دل میں میں ہی میں ہوں

کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہے Read More »

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

غزل غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو نظر آ گئی ہے

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر Read More »

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

غزل مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہے مری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انہیں اعتبار

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں Read More »

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے

غزل اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے وہ وقت بھی خدا نہ دکھائے کبھی مجھے ان کی ندامتوں پہ ہو شرمندگی مجھے رونے پہ اپنے ان کو بھی افسردہ دیکھ کر یوں بن رہا ہوں جیسے اب آئی ہنسی مجھے یوں دیجئے

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے Read More »

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے

غزل کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے آپ للہ نہ دیکھا کریں آئینہ کبھی دل کا آ جانا بڑی بات نہیں ہوتی ہے چھپ کے روتا ہوں تری یاد میں دنیا بھر سے کب مری آنکھ سے برسات نہیں ہوتی ہے حال دل پوچھنے والے

کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہے Read More »