MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تجھ سے کہنا ہے دل کا حال عبث

غزل تجھ سے کہنا ہے دل کا حال عبث دل میں رکھنا ، ترا خیال عبث اس دل کی زباں وہ کب سمجھا ساتھ گزرے وہ ماہ و سال عبث مات لکھی بساط عشق پہ تھی ہار جانے کا ہے —- ملال عبث عشق کی پر فریب — وادی میں جان و دل سے ہوئے […]

تجھ سے کہنا ہے دل کا حال عبث Read More »

اس قدر گل پہ مہربانی کیوں

غزل اس قدر گل پہ مہربانی کیوں اور کانٹوں سے خار کھانی کیوں ان سرکش ہواؤں سے پوچھ ذرا ہاتھ شاخوں کے ہیں خالی کیوں یہ محبت ، ملن ہے روحوں کا جسم خاکی پہ حکمرانی کیوں کچھ خرد سے بھی مشورہ ہوتا دل نے آنکھوں کی بات مانی کیوں پیر پھیلائے — مفلسی ہے

اس قدر گل پہ مہربانی کیوں Read More »

ہم قدم نہیں کوئی ، ہم زباں نہیں کوئی

غزل ہم قدم نہیں کوئی ، ہم زباں نہیں کوئی میں اور میری تنہائی ، درمیاں نہیں کوئی عجب سفر ہے نور کا ، ذات کی تلاش میں کیوں کہوں کہ راہوں میں کہکشاں نہیں کوئی روز شب نہیں رکتے ، کشکول میں زمانے کے وقت کے فرعون کا ، نام و نشاں نہیں کوئی

ہم قدم نہیں کوئی ، ہم زباں نہیں کوئی Read More »

الفت ہی نہ کی ہوتی نہ دل سے گئے ہوتے

غزل الفت ہی نہ کی ہوتی نہ دل سے گئے ہوتے ہوتا نہ وہ ہرجائی دکھ یہ نہ سہے ہوتے کس آس پہ ہر لمحہ تجدید وفا کی ہے اے کاش جفاؤں میں ہم تم پہ گئے ہوتے ان نام کے رشتوں میں گر بوئے وفا ہوتی روشن مرے آنگن میں الفت کے دیئے ہوتے

الفت ہی نہ کی ہوتی نہ دل سے گئے ہوتے Read More »

یہ عشق صحرا نوردی مجھے قبول نہیں

غزل یہ عشق صحرا نوردی مجھے قبول نہیں سو ، پیرہن پہ ذرا بھی میرے دھول نہیں زمانے بھر کی نگاہوں میں مشتہر ہو کر کھٹکنا دل میں رقیبوں کےبھی قبول نہیں محبتوں میں ، نہیں ہم ادھار کے قائل کہ اس میں کچھ کبھی حاصل نہیں حصول نہیں کبھی کے دن ہیں بڑے تو

یہ عشق صحرا نوردی مجھے قبول نہیں Read More »

اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا

غزل اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا کچھ خرد سے بھی رابطہ رکھنا دوریوں میں بھی قربتوں کیطرح نہیں لب پر کوئی گلہ رکھنا خود سے گر انتقام لینا ہے عشق  کرنے کا سلسلہ رکھنا جانے کس راہ سے وہ آجائے دل کا ہر راستہ  سجا رکھنا خود پرستوں کے درمیاں رہ کر کھل کے

اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا Read More »

جانے کیا کہہ گیا روانی میں

غزل جانے کیا کہہ دیا روانی میں دے گیا اشک وہ نشانی میں اک تبسم کا آسرا تھا فقط بہہ گیا آج وہ بھی پانی میں سوچ منفی جو رکھتے ہیں ان کی عمر کٹتی ہے بدگمانی میں بے کلی میں قرار ہے مجھ کو شاد رہتی ہوں خوش گمانی میں ہم نے پایا نہیں

جانے کیا کہہ گیا روانی میں Read More »

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے

غزل کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے بس اک لمحہ آتا ہے ٹل جاتا ہے تجھ سے مجھ کو بیر سہی پر کبھی کبھی دنیا تیرا جادو بھی چل جاتا ہے جان لیا ہے لیکن ماننا باقی ہے تو سایہ ہے اور سایہ ڈھل جاتا ہے اک دن میں اشکوں میں یوں گھل

کبھی کبھی یہ سونا پن کھل جاتا ہے Read More »

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے

غزل ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے ابھی کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں دکھانے بھی تماشہ گاہ عالم ہم تجھے آباد رکھیں گے اگر گھر کا خیال آیا تو رستہ بھول جائیں گے سفر میں دشت کو جاتے ہوئے

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے Read More »

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں

غزل میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں اے آسمان سن لے ہشیار کر رہا ہوں اک حد بنا رہا ہوں شہر ہوس میں اپنی در کھولنے کی خاطر دیوار کر رہا ہوں معلوم ہے نہ ہوگی پوری یہ آرزو بھی پھر دل کو بے سبب کیوں بیمار کر رہا ہوں پھولوں بھری یہ

میں فرد جرم تیری تیار کر رہا ہوں Read More »