MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کفر کے دور میں تھی کہاں روشنی

غزل

کفر کے دور میں تھی کہاں روشنی
لا مکاں میں فقط تھی نہاں روشنی
آپ(ص)کے دم سےروشن زمانہ ہوا
اور پھر ہر طرف تھی عیاں روشنی
حسن ، دانائی ، اخلاق اور رہبری
جس سے ہم کو ملی جاوداں روشنی
دنیا داری کے سنگ ، دین لے کر چلو
کچھ یہاں روشنی،کچھ وہاں روشنی
دین حق کو جوانوں میں بھی عام کر
اس سے سب کو ملےاک جواں روشنی
ہے دعا ، دور ہوں دل کی تاریکیاں
ہو خدا مجھ پہ بھی مہرباں روشنی
لٹ گیا صوفیہ ، دو دلوں کا قرار
عشق کی پھیلی ، جب درمیاں روشنی
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم