MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبرو

یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبروکہیں تا جدار ہیں دربدر کوئی سر کٹا کے ہے سرخرو ہے سلام انکو جو ڈٹ گئے، وہ جو حق کی راہ میں کٹ گئےہیں جہاں بھی حق کے علم اٹھے، وہاں کر بلائیں چہار سو ہیں یزید آج بھی تخت پر، لئے اپنے […]

یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبرو Read More »

وہ مان رکھتے ہیں اُن کا جو اُن کو جان گئے

وہ مان رکھتے ہیں اُن کا جو اُن کو جان گئےملا گمان سے بڑھ کر جو خوش گمان گئے صدا لگانے سے پہلے ہی کھل گیا جو دریہیں سے بھیک ملے گی فقیر مان گئے تھا داغ داغ یہ دامن اسے کہاں دھوتاکرم کے چھینٹے پڑے اور سبھی نشان گئے ہو سامنے مرے روضہ ہو

وہ مان رکھتے ہیں اُن کا جو اُن کو جان گئے Read More »

مجھے جالیوں سے رسائی دیں، کبھی دور ہی سے سنائی دیں

مجھے جالیوں سے رسائی دیں، کبھی دور ہی سے سنائی دیںمیں تڑپ رہا ہوں فراق میں، مجھے اک جھلک ہی دکھائی دیں وہ نصیب والے تھے با خدا وہ جو پاس تھے جو قریب تھےمیں انہی صحابہ میں جا ملوں، مجھے ایک دن کی رسائی دیں مری فکر میں مری بات میں، مرے ذکر میں

مجھے جالیوں سے رسائی دیں، کبھی دور ہی سے سنائی دیں Read More »

مجاز کی شخصیت ایک جائزہ

مجازؔ 19اکتوبر1911ء میں ضلع بارہ بنکی کے مشہور قصبہ ردولی کے خواجہ محل میں پیدا ہوئے۔ مجازؔ ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں آگرہ آگئے تھے۔ انھوں نے 1929ء میں سینٹ جانس کالج آگرہ میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ آگرہ میں ان کا قیام ان کی ادبی زندگی کے لئے بہت

مجاز کی شخصیت ایک جائزہ Read More »

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردشِ دوراں بھول گئے

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردشِ دوراں بھول گئےوہ زلفِ پریشاں بھول گئے، وہ دیدہء گریاں بھول گئے اے شوق۔ نظارہ کیا کہیے، نظروں میں کوئی صورت ہی نہیںاے ذوقِ تصور کیا کیجئے، ہم صورتِ جاناں بھول گئے اب گُل سے نظر ملتی ہی نہیں، اب دل کی کلی کِھلتی ہی

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا، اے گردشِ دوراں بھول گئے Read More »

اذنِ خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم

اذنِ خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہمہٹ کر چلے ہیں رہ گزرِ کارواں سے ہم کیونکر ہوا ہے فاش زمانے پہ ، کیا کہیںوہ رازِ دل جو کہہ نہ سکے رازداں سے ہم ہمدم یہی ہے رہگزرِ یارِ خوش خرامگزرے ہیں لاکھ بار اسی کہکشاں سے ہم کیاکیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ

اذنِ خرام لیتے ہوئے آسماں سے ہم Read More »

تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئےاس سعئ کرم کو کیا کہیے، بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے ہم عرضِ وفا بھی کر نہ سکے، کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکےیاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی، واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے آشفتگیِ وحشت کی قسم، حیرت کی

تسکینِ دلِ محزوں نہ ہوئی، وہ سعئ کرم فرما بھی گئے Read More »

بربادِ تمنا پہ عتاب اور زیادہ

بربادِ تمنا پہ عتاب اور زیادہہاں! میری محبت کا جواب اور زیادہ روئیں نہ ابھی اہلِ نظر حال پہ میرےہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ آوارہ و مجنوں ہی پہ موقوف نہیں کچھملنے ہیں ابھی مجھ کو خطاب اور زیادہ اٹھیں گے ابھی اور بھی طوفاں مرے دل سےدیکھوں گا ابھی عشق کے

بربادِ تمنا پہ عتاب اور زیادہ Read More »

حُسن پھر فِتنہ گر ہے کیا کہیے

حُسن پھر فِتنہ گر ہے کیا کہیےدِل کی جانِب نظر ہے کیا کہیے پھر وہی رہگُزر ہے کیا کہیےزندگی راہ پر ہے کیا کہیے حُسن خود پردہ وَر ہے کیا کہیےیہ ہماری نظر ہے کیا کہیے آہ تو بے اثر تھی برسوں سے !نغمہ بھی بے اثر ہے کیا کہیے حُسن ہے اب نہ حُسن

حُسن پھر فِتنہ گر ہے کیا کہیے Read More »

عقل کی سطْح سے کُچھ اور اُبھر جانا تھا

عقل کی سطْح سے کُچھ اور اُبھر جانا تھاعِشق کو منزلِ پَستی سے گُزر جانا تھا جلوے تھے حلقۂ سر دامِ نظر سے باہرمیں نے ہر جلوے کو پابندِ نظر جانا تھا حُسن کا غم بھی حَسِیں، فکر حَسِیں، درد حَسِیںاس کو ہر رنگ میں، ہر طور سنْور جانا تھا حُسن نے شوق کے ہنگامے

عقل کی سطْح سے کُچھ اور اُبھر جانا تھا Read More »