یہ جو راستے ہیں لہو لہو ہے انہی میں عشق کی آبرو
کہیں تا جدار ہیں دربدر کوئی سر کٹا کے ہے سرخرو
ہے سلام انکو جو ڈٹ گئے، وہ جو حق کی راہ میں کٹ گئے
ہیں جہاں بھی حق کے علم اٹھے، وہاں کر بلائیں چہار سو
ہیں یزید آج بھی تخت پر، لئے اپنے نیزوں پہ تشنہ سر
وہی کوفہ اور وہی راہزن، وہی کربلا ہے وہی لہو
یہ حیات بعد حیات ہے یہ حسینیت کا ثبات ہے
یہاں ہوں گے وہ ہی تو سرخرو ہیں لہو سے اپنے جو باوضو
ہے یہی پکارتی ہر صدی، ہوں غمِ حسین کی میں صدی
ڈھلے کیسے شامِ الم بھلا، ہیں کئی فرات لہو لہو
عابد رشید