MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دوست کی خوش مزاجی

ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی” کا جوابشام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتابرکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاقاُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاقچھُپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہرِ زرفشاںدید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاںموجزن جوئے شفق ہے اس […]

دوست کی خوش مزاجی Read More »

وہ نقاب آپ سے اُٹھ جائے تو کُچھ دُور نہیں

وہ نقاب آپ سے اُٹھ جائے تو کُچھ دُور نہیںورنہ میری نگہِ شوق بھی مجبُور نہیں خاطرِ اہلِ نظر حُسن کو منظوُر نہیںاِس میں کُچھ تیری خطا دیدۂ مہجوُر نہیں لاکھ چُھپتے ہو، مگر چُھپ کے بھی مستوُر نہیںتم عجب چیز ہو ، نزدیک نہیں، دُور نہیں جراَتِ عرض پہ وہ کُچھ نہیں کہتے، لیکن!ہر

وہ نقاب آپ سے اُٹھ جائے تو کُچھ دُور نہیں Read More »

اپنے دل کو دونوں عالم سے اُٹھا سکتا ہوں میں

اپنے دل کو دونوں عالم سے اُٹھا سکتا ہوں میںکیا سمجھتی ہو کہ تم کو بھی بھلا سکتا ہوں میں کون تم سے چھین سکتا ہے مجھے، کیا وہم ہےخود زلیخا سے بھی تو دامن بچا سکتا ہوں میں دل میں تم پیدا کرو پہلے مری سی جرائتیںاور پھر دیکھو کہ تم کو کیا بنا

اپنے دل کو دونوں عالم سے اُٹھا سکتا ہوں میں Read More »

رَہِ شوق سے، اب ہَٹا چاہتا ہُوں

رَہِ شوق سے، اب ہَٹا چاہتا ہُوںکشِش حُسن کی دیکھنا چاہتا ہُوں کوئی دِل سا درد آشنا چاہتاہُوںرَہِ عِشق میں رہنُما چاہتا ہُوں تجھی سے تجھے چِھیننا چاہتا ہُوںیہ کیا چاہتا ہُوں، یہ کیا چاہتا ہُوں خطاؤں پہ، جو مجھ کو مائل کرے پھرسزا ، اور ایسی سزا چاہتا ہُوں وہ مخمُور نظریں، وہ مدہوش

رَہِ شوق سے، اب ہَٹا چاہتا ہُوں Read More »

نیا کشمیر

اک شرارہ جھلملایا اور فضا میں کھو گیااک شرارہ جانبِ خلدِ جواں آیا تو کیاکوئی طوفان آئے اک کوہِ گراں ہے اس طرفکوئی طوفاں برسرِ کوہِ گراں آیا تو کیادست و بازو میں صَلابت آچکی فولاد کیاب مقابل اک حریفِ نیم جاں آیا تو کیاخود حقیقت پر پڑے باطل کا سایہ تابکےمہرِ عالم تاب کے

نیا کشمیر Read More »

حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا

حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حُسن کو پردہ بنا لیتی تو اچھا تھا تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا تری چینِ جبیں خود اک سزا قانونِ فطرت میںاسی شمشیر سے کارِ سزا لیتی تو اچھا تھا یہ تیرا

حجابِ فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھا Read More »

"اے میرے دل”

اے میرے دل مجھے ایسی جگہ لے چلجہاں دریا کی لہروں میںروانی کے نظارے ہوںفلک پر چاند تارے ہوںجنوں آثار سارے ہوںکسی کی چشم نغمہ ساز میںخواب محبت کے اشارے ہوںدرختوں پربہاروں کا سماں ہو اورجہاں تک بھی نظر جائےگلوں کے درمیاںاس جسم کی خوشبو کا ہر احساس جاگا ہواے میرے دل مجھے ایسی جگہ

"اے میرے دل” Read More »

14 اگست

رات آئی ہے خوشیاں لٹاتے ہوئےآئینوں کی دکانیں سجاتے ہوئےگیت گاتے ہوئے گنگناتے ہوئےنغمہء جسم وجاں یہ سناتے ہوئےآج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن یہ وطن جو کہ خوابوں کی تعبیر ہےیہ وطن جو شہیدوں کی جاگیر ہےاس سے روشن زمانے کی تقدیر ہےسب کے ہونٹوں پہ یہ زور تقریر ہےآج ہم کو ملا

14 اگست Read More »

وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سے

وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سےمیں جی رہا ہوں اسی ذات کے حوالے سے جو بت کدہ تھا کبھی، اس کی شان تو دیکھووہ گھر خدا کا ہے سرکار کے حوالے سے جہاں جہاں سے بھی گزرے ہیں عاشقان نبیوہیں وہیں پہ اتر آئے ہیں اجالے سے محبتیں مجھے دنیا کی گرد لگنے

وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سے Read More »

نبض جاں آپ کی نقش جاں آپ کا

نبض جاں آپ کی نقش جاں آپ کامیری آنکھوں میں خواب گراں آپ کا ہے سمندر میں موج رواں آپ کیآسمانوں پہ ابر رواں آپ کا آپ کی رحمتیں سب پہ سایہ فگنہر مکیں آپ کا ہر مکاں آپ کا پھول بھی آپ کے نکہتیں آپ کیباغ بھی آپ کا باغباں آپ کا میری آنکھوں

نبض جاں آپ کی نقش جاں آپ کا Read More »