وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سے
میں جی رہا ہوں اسی ذات کے حوالے سے
جو بت کدہ تھا کبھی، اس کی شان تو دیکھو
وہ گھر خدا کا ہے سرکار کے حوالے سے
جہاں جہاں سے بھی گزرے ہیں عاشقان نبی
وہیں وہیں پہ اتر آئے ہیں اجالے سے
محبتیں مجھے دنیا کی گرد لگنے لگیں
ہوئی ہے جب سے محبت مدینے والے سے
وفور شوق سے روضے کے سامنے آکر
مری زبان پہ پڑنے لگے ہیں تالے سے
سبھی پہ دامن لطف و کرم رہا ان کا
رویہ ایک پی رکھا ہے گورے کالے سے
دیار آپ کا دیکھا ہے خواب میں جب سے
یہ دل سنبھالے، سنبھلتا نہیں، سنبھالے سے
بھری ہے جس میں مے عشق مصطفٰے رونق
کوئی پیالہ نہیں بڑھ کے اس پیالے سے
رونق حیات