MOJ E SUKHAN

وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سے

وہ ذات پاک مرصع ہے جو اجالے سے
میں جی رہا ہوں اسی ذات کے حوالے سے

جو بت کدہ تھا کبھی، اس کی شان تو دیکھو
وہ گھر خدا کا ہے سرکار کے حوالے سے

جہاں جہاں سے بھی گزرے ہیں عاشقان نبی
وہیں وہیں پہ اتر آئے ہیں اجالے سے

محبتیں مجھے دنیا کی گرد لگنے لگیں
ہوئی ہے جب سے محبت مدینے والے سے

وفور شوق سے روضے کے سامنے آکر
مری زبان پہ پڑنے لگے ہیں تالے سے

سبھی پہ دامن لطف و کرم رہا ان کا
رویہ ایک پی رکھا ہے گورے کالے سے

دیار آپ کا دیکھا ہے خواب میں جب سے
یہ دل سنبھالے، سنبھلتا نہیں، سنبھالے سے

بھری ہے جس میں مے عشق مصطفٰے رونق
کوئی پیالہ نہیں بڑھ کے اس پیالے سے

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم