MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بس یہی حد ادب ہے آقا

بس یہی حد ادب ہے آقاپاوءں چھونے کی طلب ہے آقا پھر وہی ماہ ربیع الاولپھر وہی جشن طرب ہے آقا کوئی خواہش بھی مدینے کے سواپہلے تھی اور نہ اب ہے آقا آپ ہی رحمت عالم ہیں حضورآپ ہی کا یہ لقب ہے آقا یہ جو دوری ہے مدینے سے، یہیوحشت دل کا سبب […]

بس یہی حد ادب ہے آقا Read More »

بہت مہرباں ہیں مدینے کی گلیاں

بہت مہرباں ہیں مدینے کی گلیاںجہاں ہم، وہاں ہیں مدینے کی گلیاں رسول دو عالم کا پیغام لے کررواں ہیں، دواں ہیں مدینے کے گلیاں نظر میں عیاں ہیں محمد کے جلوےدلوں میں نہاں ہیں مدینے کی گلیاں کڑی دھوپ ہو یا کہ سورج ہو سر پرمرا سائباں ہیں مدینے کی گلیاں مدینے جو پہنچا

بہت مہرباں ہیں مدینے کی گلیاں Read More »

میرے اچھے حضور

میرے اچھے حضورمیرے اچھے حضورآگہی اور شعورمعرفت کا سروروہ سراپا ہیں نورحامیء نزد و دورمیرے اچھے حضور باغ و فصل بہاران سے لے کر ادھارہوگئے مشکبارروشنی رنگ و نورمیرے اچھے حضور لے کے شوق سفرآیا طیبہ نگردیکھ کر ان کا دردل ہوا غم سے دورمیرے اچھے حضور چشم بیدار کاان کے دیدار کاہے نشہ پیار

میرے اچھے حضور Read More »

بنائے گا مری بگڑی جو بات نام رسول

بنائے گا مری بگڑی جو بات نام رسولکرے گا دور مری مشکلات نام رسول میں اٹھتے بیٹھتے ان کا ہی نام لیتا ہوںہے اک خزانہء حسن صفات نام رسول ازل سے لے کے ابد تک چراغ کی صورتجمال انجمن ممکنات نام رسول جہاں تلک مری سانسوں کی ڈور جائے گیکرے گی ورد یہ میری حیات

بنائے گا مری بگڑی جو بات نام رسول Read More »

حیات پاک نبی جب مری نظر میں رہی

حیات پاک نبی جب مری نظر میں رہیمرے وجود میں اک روشنی سفر میں رہی در رسول پہ پہنچا تو ہوگئی پوریوہ آرزو جو سدا میری چشم تر میں رہی نبی کے در پہ اڑا کر جو لے گئی مجھ کواک ایسی قوت پرواز بال و پر میں رہی یہ جو طلب ہے در مصطفٰے

حیات پاک نبی جب مری نظر میں رہی Read More »

ان کے روضے پہ جب رات ہونے لگی

ان کے روضے پہ جب رات ہونے لگیچاند تاروں کی برسات ہونے لگی جب قلم نے لکھا یا نبی السلاملفظ کہنے لگے، نعت ہونے لگی نور پھیلا جہاں میرے سرکار کاتیرگی کو وہیں مات ہونے لگی میرے صحرائے رنج و الم میں بھی ابان کی رحمت کی برسات ہونے لگی آنکھ روشن ہوئی، دل چمکنے

ان کے روضے پہ جب رات ہونے لگی Read More »

ان کی رحمت سے ہوں گلزاروں کے بیچ

ان کی رحمت سے ہوں گلزاروں کے بیچراستہ بنتا گیا خاروں کے بیچ دشمن حق عظمت سرکار سےلوٹتے رہتے ہیں انگاروں کے بیچ ان کے روضے پر ہوا محسوس یوںآگئے جیسے چمن زاروں کے بیچ جسم و جاں کے زخم سارے بھر گئےآگئے جب آپ بیماروں کے بیچ دیکھیے تو مسجد خیر البشرنور کا دریا

ان کی رحمت سے ہوں گلزاروں کے بیچ Read More »

اقبال کے بکھرے خواب

تحریر رونق حیات نومبر کا مہینہ آتا ہے تو اقبال کی شخصیت، اس کی شاعری اور فکر و فلسفے پر ادبی سماج میں اظہار خیالات کی شمعیں فروزاں ہونے لگتی ہیںپاکستان کا جہان ادب ہو یا اردو کی نئ بستیوں کے ادبی حلقے”اقبال ڈے” ادب و احترامات کے ساتھ مناتے اور اقبال کو عقیدت و

اقبال کے بکھرے خواب Read More »

آنکھوں میں فقط خواب ہیں تعبیر نہیں ہے

آنکھوں میں فقط خواب ہیں تعبیر نہیں ہےلگتا ہے کسی خواب کی تعمیر نہیں ہے اک عکس مسلسل مری تنہائی کے پیچھےرہتا ہے مگر پاؤں میں زنجیر نہیں ہے میدان محبت میں مقابل ہے زمانہلڑنے کے لیے ہاتھ میں شمشیر نہیں ہے دیوار محبت پہ کہیں عکس ہے ترالٹکی ہوئی دیوار پہ تصویر نہیں ہے

آنکھوں میں فقط خواب ہیں تعبیر نہیں ہے Read More »

ہوا ،چراغ ،اندھیرا، چرا کے لے آیا

ہوا ،چراغ ،اندھیرا، چرا کے لے آیامیں زندگی کا کنارہ اٹھا کے لے آیا چمک رہا تھا کہیں عرش پر ستارہ مرایہ کون عشق وہاں پر بلا کے لے آیا بہت کشش تھی کہانی میں اس کے ہونے سےغریب شہر کے بچے سنا کے لے آیا اسے زمیں پہ ضرورت تھی زندہ لوگوں کیسو اپنے

ہوا ،چراغ ،اندھیرا، چرا کے لے آیا Read More »