سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے
غزل سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے تو ہر مضمون اس کی گرد کا ممنون ہوتا ہے کہیں سر کا کہیں دستار کا ممنون ہوتا ہے وہ دیوانہ کہاں ہوتا کہ جو مجنون ہوتا ہے جو پہچاتا ہے ہر آواز کو شہرِ تمنا تک ہر اک مضمون میں ایسا کوئ مضمون […]
سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے Read More »