MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے

غزل   سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے تو ہر مضمون اس کی گرد کا ممنون ہوتا ہے کہیں سر کا کہیں دستار کا ممنون ہوتا ہے وہ دیوانہ کہاں ہوتا کہ جو مجنون ہوتا ہے جو پہچاتا ہے ہر آواز کو شہرِ تمنا تک ہر اک مضمون میں ایسا کوئ مضمون […]

سفر میں جب خیالِ یار کا مضمون ہوتا ہے Read More »

وہ ایک بات جو منت کش زباں نہ ہوئی

غزل وہ ایک بات جو منت کش زباں نہ ہوئی اس ایک بات کی شہرت کہاں کہاں نہ ہوئی میں چپ رہآ تو مری خامشی نے دوہرائ وہ داستاں جو کبھی زیب داستاں نہ ہوئی ادھر وہ پوچھ رہے تھے مزاج کیسے ہیں ادھر میں چپ تھا کہ گویا بدن میں جاں نہ ہوئی کسی

وہ ایک بات جو منت کش زباں نہ ہوئی Read More »

سیاق یاد تو ہیں دستِ کو زہ گر کے مجھے

غزل سیاق یاد تو ہیں دستِ کو زہ گر کے مجھے سباق یاد نہیں ہیں کسی ہنر کے مجھے کرے گی گردِ سفر کیا تلاش کر کے مجھے کہ ہمسفر بھی نہیں یاد اب سفر کے مجھے غبارِ راہ کی صورت بکھر گیا میں اگر کہاں سے لائے گی دنیا تلاش کر کے مجھے نہ

سیاق یاد تو ہیں دستِ کو زہ گر کے مجھے Read More »

 رہے سنگین رشتوں کے مسائل

غزل  رہے سنگین رشتوں کے مسائل کبھی ان کےکبھی اپنے مسائل ملی دستار جس دن آدمی کو ملے دستار سےپہلے مسائل حقیقت میں یہی اک مسئلہ ہے کہ جیسا آدمی ویسے مسائل سہارا مجھ کو تنہائ اگر دے میں تنہا حل کروں سب کے مسائل اگر مقتل میں چلتا سر جھکا کر تو کتنے عام

 رہے سنگین رشتوں کے مسائل Read More »

جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تک

غزل جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تک گلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تک جوں خار اس سے تو نہیں ہوتے جدا رقیب مجھ کو رسائی کیوں کہ ہو اس گلعذار تک ابرو کہاں نے وضع نکالی ہے یہ نئی رہتا ہے تیر غمزہ مرے دل میں مار تک پیارے کہیں نظر

جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تک Read More »

تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے

غزل تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے دل تجھ کو دے کے تو ہی بتا آہ کیا کرے جس دل جلے کی تجھ سے لگے شمع ساں لگن سر سے وہ گزرے اور تو واللہ کیا کرے زاری فغاں و نالہ سبھی بے اثر ہیں آہ اس سنگ دل کے دل میں

تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرے Read More »

مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا

غزل مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا مفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گا جو ترا عاشق رفتار ہے جوں نقش قدم تیرے کوچے کے تئیں چھوڑ کہاں جاوے گا غیر کے کہنے پر اے یار نہ کہیو ہرگز یہ سمجھ رکھیو وہ شیطان ہے بہکاوے گا دہر میں تیرے فریبوں

مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گا Read More »

اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے

غزل اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے ہمیں اپنے جینے کے لالے پڑے پھرے ڈھونڈتے پا برہنہ تجھے یہاں تک کہ پاؤں میں چھالے پڑے کیا ہے یہ طغیاں مرے اشک نے کہ بہتے ہیں دنیا میں نالے پڑے چلا غیر پر نئیں یہ تیر نگاہ ہماری ہی چھاتی پہ بھالے پڑے ہمیں کیوں

اے ظالم ترے جب سے پالے پڑے Read More »

جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے

غزل جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے اب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سے عاشق کے روزگار کو اس نے سیہ کیا کاکل سے خط سے زلف سے خالی سیاہ سے تاب و توان و دین و دل و عقل و صبر و ہوش وہ شوخ مجھ سے لے

جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سے Read More »

دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا

غزل دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا سب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایا کب غیر کو ہم رہ ترے اے یار نہ دیکھا تجھ گل کو کبھی ہم نے تو بے خار نہ پایا تجھ رخ سے نہ برقع اٹھا اے غیرت خورشید ذرہ ترا مشتاقوں نے دیدار نہ پایا

دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا Read More »