MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی

غزل

پوچھ لیتے ہیں وہ اکثر کہ ہے حالت کیسی
ہم پہ ہو جاتی ہے ان کی یہ عنایت کیسی

عہد حاضر میں تو ہے ذکر بھی ان کا بے سود
کیسا آئین وفا اور مروت کیسی

غیر کے غم میں بھی بے ساختہ رو دیتے ہیں
ہم کو اللہ نے بخشی ہے طبیعت کیسی

عشق صادق ہے ہمارا تو ہمیں کیا معلوم
شکوہ کیا ہوتا ہے ہوتی ہے شکایت کیسی

دست قدرت کا کرشمہ اسے سمجھیں ورنہ
خار اور گل میں بھلا باہمی صحبت کیسی

آپ آئے ہیں عیادت کو تو دم بھر ٹھہریں
حال دل پوچھنے میں ایسی بھی عجلت کیسی

ہم تو ہر حال میں راضی بہ رضا ہیں گوہرؔ
ہم نہیں جانتے ہوتی ہے عبادت کیسی

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم