MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اکثر جوئے کے کھیل میں ہاری گئی ھوں میں

اکثر جوئے کے کھیل میں ہاری گئی ھوں میںغیرت کے نام پر بھی تو ماری گئی ھوں میں صیاد زیوروں میں جکڑتا رہا مجھےپنجرے میں ڈالنے کو سنواری گئی ھوں میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھوگ رہی ھوںشعلوں سے کئی بار گزاری گئی ھوں میں کیوں پھر سے کٹہرے میں بلایا گیا مجھےکیوں پھر صلیب

اکثر جوئے کے کھیل میں ہاری گئی ھوں میں Read More »

"عورت”

مجھے یہ علم ھے کہ میںاجالوں کی طرح سےپھیل جاتی ھوںمیری بے باک نظروں کی تہوں میںکوئی مجبوری نہیں ھےکوئی لالچ،کوئی چہرہ،حواسکچھ بھی نہیں ھےمیرا ادراک ھے جومجھ کو میرے خیر پہ ھونےکیمسند پر بٹھاتا ھےمیری بے باک نظری کاغلط مطلب نہ لینامجھے دیکھومجھے سوچومجھے سمجھومیں عورت ھوںحقیقت ھوں "جہاںآرا تبسم”

"عورت” Read More »

"عورت، مرد "

کھیتوں کارخانوں دفتروں میںرات دن مردوں کے سنگ سنگکام کرتی میںبظاہر ایک عورت ھوںمگر شایدمیرے اندر کی عورتدھیرےدھیرےایک تندرست و توانامرد کی صورت میں ڈھلتی جارہی ھےوہ ایسا مرد بنتی جارہی ھےکہ جسکو اپنے ہی گھر میںاک عورت کی کمی محسوس ھوتی ھےاب اس کی بھی یہ خواہش ھےکہ گھر میں بیڈ پہ لیٹےبظاہر مرد

"عورت، مرد " Read More »

"تعارف”” کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق کا

میں فطرت کی نمائندہمیں قدرت کی تراشیدہمیں کائنات کی تصویر کا رنگین ظاہر ھوںمیں کائنات کی تصویر کا پاکیزہ باطن ھوںمیں رشتوں کا تقدس ھوںاساطیری کتابوں میں لکھا ھےمیں مقدس ھوںمجھے دھرتی پہ پھیلے حسن میں رکھا گیا ھےمیں پھولوں،خوشبووں ، بارش کے قطروںکہکشاوں کی فضاوں کی طرح ھوںمیں دل کی دھڑکنوں سے آسماں کی

"تعارف”” کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق کا Read More »

عید کا دن ہے "

عید کا دن ہے تو اِس دن درد کی باتیں نہ کر کچھ خوشی کے گیت گا کچھ دل لگی کی بات کر زندگی پہلے ہی سے مغموم ہے رنجور ہے اس کا سارا جسم زخموں سے، دکھوں سے چور ہے جس کو بخشا تھا لقب یاں اشرف المخلوق کا اب وہی مخلوق کا سب

عید کا دن ہے " Read More »

"خود فریبی”

عجب اک شخص ہے بھرتا ہے دم مجھ سے تعلق کا مگر وہ روبرو میرے کبھی قصداً نہیں ہوتا بسائے رہتا ہے مجھ کو سدا اپنے تصور میں بہت سی گفتگو کرتا ہے وہ لیکن خیالوں میں نہاں خانوں میں اپنے کرتا ہے مجھ سے ملاقاتیں عقیدت کا یہ عالم ہے مجھے مرشد بتاتا ہے

"خود فریبی” Read More »

کب تک نہ پلائے گا بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیرِمُغاں اور

کب تک نہ پلائے گا بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیرِمُغاں اور کب تک رہیں یہ بادہ کشاں، تشنہ دہاں اور کھل جائے گا یہ تیری سخاوت کا بھرم بھی رکھونگا کہاں تک میں بھلا۔۔۔۔۔ بند زباں اور کچھ تو مرے اشعار ہیں شوخی سے عبارت ڈھاتے ہیں ستم لالہ رخاں ، سر و قداں اور اس طرح بجھا

کب تک نہ پلائے گا بتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیرِمُغاں اور Read More »

کوئی مجھ میں ہی تھا نا قابل تسخیر، سو ہے

کوئی مجھ میں ہی تھا نا قابل تسخیر، سو ہے وہ جو رکھتا تھا بہت حسن تدابیر۔۔۔۔۔۔ سو ہے زلزلے اپنی تباہی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدر ہی سہی دل میں رکھتے تھے ہم اک جذبۂِ تعمیر، سو ہے ٹوٹتی جاتی ہیں رشتوں کے سبھی زنجیریں مامتا کی بڑی مضبوط تھی زنجیر۔۔۔۔ سو ہے محسنوں کے سبھی احسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی مجھ میں ہی تھا نا قابل تسخیر، سو ہے Read More »

نظر جھکا کے کرے جب خطاب خاموشی

نظر جھکا کے کرے جب خطاب خاموشی بہت ضخیم لکھے ہے کتاب۔۔۔۔۔۔ خاموشی یہ مانتا ہوں خموشی عظیم حکمت ہے ہو ظلم عام تو پھر ہے عذاب خاموشی جہاں ببانگِ دہل حق کی بات کہنی ہو وہاں پہ جرم ہے سنئے جناب خاموشی کبھی جو یورشِ غم توڑ دے وجود اس کا برسنے لگتی ہے

نظر جھکا کے کرے جب خطاب خاموشی Read More »

انا کے بام سے نیچے اتر ، مغرور شہزادے

انا کے بام سے نیچے اتر ، مغرور شہزادے بغاوت پر رعایا کو نہ کر مجبور شہزادے رسائی سے اگر ہو دور، کوئی حور شہزادے تو پھر ہو جاتے ہیں کھٹے وہاں انگور شہزادے شواہد جرم کے اپنے مٹاتا ہے تو خوبی سے مگر یہ دونوں شانوں پر جو ہیں مامور ، شہزادے جہاں کو

انا کے بام سے نیچے اتر ، مغرور شہزادے Read More »