MOJ E SUKHAN

"خود فریبی”

عجب اک شخص ہے بھرتا ہے دم مجھ سے تعلق کا
مگر وہ روبرو میرے کبھی قصداً نہیں ہوتا
بسائے رہتا ہے مجھ کو سدا اپنے تصور میں
بہت سی گفتگو کرتا ہے وہ لیکن خیالوں میں
نہاں خانوں میں اپنے کرتا ہے مجھ سے ملاقاتیں
عقیدت کا یہ عالم ہے مجھے مرشد بتاتا ہے
بہت جذبے جو اس کے ذہن میں ہر دم ابھرتے ہیں
جو مجھ کو سوچ کر وہ خوشبوؤں میں ڈوب جاتا ہے
کبھی وہ آبگینوں میں کبھی آنکھوں میں رکھتا ہے
کبھی مانندِ خوشبو سونگھتا رہتا ہے وہ مجھ کو
کبھی دل میں مچلتا ہوں میں اس کے آرزو بن کر
کبھی اپنے سخن میں بھی وہ مجھ کو گنگناتا ہے
وہ اک اک لفظ چن چن کر کبھی نظمیں، کبھی غزلیں
کبھی نغمے سجاتا ہے سبھی مجھ پر لٹاتا ہے
ابھی تک اس حقیقت سے مگر انکار کرتا ہے
عقیدت کے پسِ پردہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے
وہ مجھ پر دل سے مرتا ہے

اقبال گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم