MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیںہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغکہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کاوہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیاکہ چارہ ساز

ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں Read More »

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئییہ جرأت ہم کو مگر آپ کے کرم سے ہوئی جہان عشق میں اہل جنوں بھی کم تو نہ تھےہوئی شناخت اس اقلیم کی تو ہم سے ہوئی قتیل عشق کیا پھر گلے لگائے رہاکہ ابتدائے محبت بھی اک ستم سے ہوئی مجھے تو جاننے والے بھی

خطائے عشق یہ تسلیم ہے کہ ہم سے ہوئی Read More »

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھیخود اپنی ذات کے سائے میں کھو گئے ہم بھی لگاؤ سنگ صدا شیشہ سکوت پہ آجزمانے والو پکارو کہ سو گئے ہم بھی لگے تو شاخ پہ اک برگ زرد کی مانندگرے تو گرد حقارت میں کھو گئے ہم بھی نہ دیکھ پائے حقیقت کے ہولناک نقوشہزار رنگ

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی Read More »

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہاسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں کشت زیست میں فصلوں کی صورتکچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیںبہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوںوہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ میں ہو کر بے خطا مجرم

اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ Read More »

بات لاکھوں کی سہی پر وہ نہیں مانے تو

بات لاکھوں کی سہی پر وہ نہیں مانے توسچ کی میزان پہ رکھ کر بھی نہ گردانے تو دیکھ کر جاتے ہوئے چیخ رہی ہوں بے سودشخصیت کو مری آ کر بھی نہ پہچانے تو توڑ کر دیر و کلیسا تو بنا دی مسجددل میں آباد جو ہو جائیں صنم خانے تو شمع بن کر

بات لاکھوں کی سہی پر وہ نہیں مانے تو Read More »

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہےجہاں تک دیکھتا ہوں روششنی محسوس ہوتی ہے ابھی ٹوٹا نہیں ہے سلسلہ ان کی توجہ کاابھی تو میری آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے کلیجے سے لگا رکھا ہے غم میں نے شہِ دیں کاکہ اس غم میں حیاتِ دائمی محسوس ہوتی ہے کرم شیوا ہے

شہِ دیں کی طلب میں زندگی محسوس ہوتی ہے Read More »

بظاھر ذِیست طُوفانی نہیں ھے

Bazahir Zeest Toofani Nahi Hay غزل بظاھر ذِیست طُوفانی نہیں ھےبڑی مُشکل ھے آسانی نہیں ھے تِری محفل میں ھم آ تو گئے ھیںمگر کم دل کی ویرانی نہیں ھے میں اس دُنیا کا دیوانہ ھوں لیکنیہ دُنیا میری دیوانی نھیں ھے پریشاں أپ کیوں میرے لیے ھیںمجھے کوئی پریشانی نھیں ھے کسی طوفان کا

بظاھر ذِیست طُوفانی نہیں ھے Read More »

جس طرح لازم ھے گُل کے ساتھ، شرکت خار کی

Jis Tarah Lazim hay Gul Kay Sath Shirkat Khaar ki غزل جس طرح لازم ھے گُل کے ساتھ، شرکت خار کیجیت بھی ھے اصل میں، مرھُونِ مِنّت ہار کی بات کیا کرتے ھو، اس کے کُوچہ و بازار کیآج تو قیمت لگی ھے، جُبہ و دستار کی تجھ سے ملنے کا تصوّر، ھوگیا ھے اب

جس طرح لازم ھے گُل کے ساتھ، شرکت خار کی Read More »

گلے نہ ھم کو لگائیں، وہ اتنے شاطر ھیں

Galay na Ham ko lagaieen wo itny Shatir Hain غزل گلے نہ ھم کو لگائیں، وہ اتنے شاطر ھیںنظر سے پیاس بجھائیں، وہ اتنے شاطر ھیں کہیں نہ پُوچھ لیں ھم، ھِجر کیا ھے، یہ اُن سےنظر نہ ھم سے مِلائیں، وہ اتنے شاطر ھیں چھلک پڑیں، نہ گُہر ھائے آبدار کہیںنظر نہ ھم سے

گلے نہ ھم کو لگائیں، وہ اتنے شاطر ھیں Read More »

اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے،

اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے،جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے، سوچتا ہوں کہ اب انجامِ سفر کیا ہوگا؟لوگ بھی کانچ کےہیں راہ بھی پتھریلی ہے، گرد آنکھوںمیں سہی، داغ تو چہرے پہ نہیں،لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے، گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجا،کس کو

اب کے برسات کی رُت اور بھی بھڑکیلی ہے، Read More »