ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں
ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیںہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغکہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کاوہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیاکہ چارہ ساز
ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں Read More »