MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہےکہ ہونے میں زیاں رکھا ہوا ہے زمیں کے جسم پر قبریں نہیں ہیںخیال رفتگاں رکھا ہوا ہے سر مژگاں مرے آنسو نہیں ہیںسلوک دوستاں رکھا ہوا ہے یہاں جو اک چراغ زندگی تھانہ جانے اب کہاں رکھا ہوا ہے یہ دنیا اک طلسم آب و گل ہےیہاں سب

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے Read More »

سیر کرنے سے ہوا لینے سے

سیر کرنے سے ہوا لینے سےکام ہے دل کو مزہ لینے سے دھوپ سائے کی طرح پھیل گئیان درختوں کی دعا لینے سے اس طرح حال کوئی چھپتا ہےاس طرح زخم چھپا لینے سے کوئی مقبول دعا ہوتی ہےصرف ہاتھوں کو اٹھا لینے سے میرے جیسا وہ نہیں ہو سکتامیرا انداز چرا لینے سے رات

سیر کرنے سے ہوا لینے سے Read More »

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نےیہ روشنی بھی ستاروں میں بانٹ دی میں نے بس ایک شام بچی تھی تمہارے حصے کیمگر وہ شام بھی یاروں میں بانٹ دی میں نے جناب قرض چکایا ہے یوں عناصر کاکہ زندگی انہی چاروں میں بانٹ دی میں نے پکارتے تھے برابر مجھے سفر کے

نظر ملی تو نظاروں میں بانٹ دی میں نے Read More »

جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھے

جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھےدشت میں‌ کتنی سہولت ہے مجھے تم بھی مصروف نظر آتے ہو ۔۔۔میں‌ بھی چلتا ہوں‌ کہ عجلت ہے مجھے ان مکینوں‌ کا سلوک اپنی جگہدرودیوار پہ حیرت ہے مجھے یاد رکھتا ہوں‌ جہاں‌ لوگوں‌ کوبھول جانے کی بھی عادت ہے مجھے کام کچھ آن پڑا ہے ایساورنہ کب دل

جاؤں جس سمت اجازت ہے مجھے Read More »

ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا

ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیاتم سے ملے بغیر رہا تک نہیں گیا کیا رنگ تھے جو ہم سے سمیٹے نہیں گئےکیا خواب تھا جو ہم سے لکھا تک نہیں گیا اک قہقہوں کی گونج تھی جو گونجتی رہیاک دل کا شور تھا جو سنا تک نہیں گیا آئی ہوا خود آپ بجھانے

ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا Read More »

خواب کی جادو گری رہتی ہے

خواب کی جادو گری رہتی ہےنیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے جیسے رہتا ہی نہیں ہوں میں یہاںاک عجب بے خبری رہتی ہے ہم خیالوں میں سفر کرتے ہیںہمسفر دربدری رہتی ہے دل ہے وہ آئینہ خانہ جس میںاک عجب عکس گری رہتی ہے خشک ہو جاتے ہیں پتے لیکنشاخ امکاں تو ہری رہتی ہے

خواب کی جادو گری رہتی ہے Read More »

سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے​

سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے​جو چاہا تھا، دنیا میں کم ہوتا ہے​ ​ڈھلتا سورج، پھیلا جنگل، رستہ گم​ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے​ ​غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی​جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے​ ​زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں​لوگوں سے سُنتے ہیں مرہم

سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے​ Read More »

کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں​

کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں​شہر کی میں تہذیب نبھاؤں، یا اپنے حالات لکھوں​ ​غم نہیں لکھوں کیا میں غم کو، جشن لکھوں کیا ماتم کو​جو دیکھے ہیں میں نے جنازے کیا اُن کو بارات لکھوں​ ​کیسے لکھوں میں چاند کے قصے، کیسے لکھوں میں پھول کی بات​ریت اُڑائے گرم ہوا تو

کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں​ Read More »

جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے، وہ دُور ہوئے تو کیا ہوگا ​

جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے، وہ دُور ہوئے تو کیا ہوگا ​ہم اُن سے بِچھڑ کر جینے پر مجبُور ہوئے تو کیا ہوگا​ ​ہم اُن کی محبت پانے کو ہر بات گوارا تو کرلیں​اِن باتوں سے وہ اور اگر مغرُور ہوئے تو، کیا ہوگا ؟​ ​شیشے سے بھی نازک خواب ہیں جو راتوں نے

جو اِتنے قریب ہیں اِس دل سے، وہ دُور ہوئے تو کیا ہوگا ​ Read More »

ہمارے شوق کی یہ اِنتہا تھی​

ہمارے شوق کی یہ اِنتہا تھی​قدم رکھا کہ منِزل راستہ تھی​ ​کبھی جو خواب تھا، وہ پا لیا ہے​مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی​ ​جسے چُھو لوں میں وہ ہو جائے سونا​تجھے دیکھا تو جانا بددُعا تھی​ ​محبت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے​میرے اچھے دِنوں کی آشنا تھی​ ​میں بچپن میں

ہمارے شوق کی یہ اِنتہا تھی​ Read More »