MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے

نہ ہونے کا گماں رکھا ہوا ہے
کہ ہونے میں زیاں رکھا ہوا ہے

زمیں کے جسم پر قبریں نہیں ہیں
خیال رفتگاں رکھا ہوا ہے

سر مژگاں مرے آنسو نہیں ہیں
سلوک دوستاں رکھا ہوا ہے

یہاں جو اک چراغ زندگی تھا
نہ جانے اب کہاں رکھا ہوا ہے

یہ دنیا اک طلسم آب و گل ہے
یہاں سب رائیگاں رکھا ہوا ہے

کاشف حسین غائر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم