MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے

نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہےدشت کہتے ہیں کسے‘ کون ہوں میں‘ تو کیا ہے روح گھائل ہے بھلا کیسے بدن کو سمجھائےاس کڑی دھوپ میں تسکین کا پہلو کیا ہے تجھ سے اک پل بھی جدا ہوں تو تڑپ اُٹھتا ہوںاے مرے پیار کی آسودہ خلش! تو کیا ہے کونپلیں شاخ پہ

نعرہ تن تنانا‘ تن تنانا ہُو کیا ہے Read More »

نگارِ شب ترا مہمان ہو رہا ہوں میں

نگارِ شب ترا مہمان ہو رہا ہوں میںوفا میں کرب کی پہچان ہو رہا ہوں میں کھرچ رہا ہوں گئے موسموں کی ہر نسبتنئی رُتوں کا شبستان ہو رہا ہوں میں محیطِ تیرہ شبی کو شگفتِ لب دے کرطلوعِ صبح کا امکان ہو رہا ہوں میں ترے کرم سے لباسِ وقار ہے تن پرتری نگاہ

نگارِ شب ترا مہمان ہو رہا ہوں میں Read More »

پلکوں سے اب کے ابر جو کھل کر برس گیا

پلکوں سے اب کے ابر جو کھل کر برس گیافرطِ وفا سے دل کا ہر اک تار کس گیا اُمید کے چراغ کی لَو خود ہی بجھ گئیدل کو جو کچھ سکون تھا‘ اب کے برس‘ گیا کس نے متاعِ رونق بازار چھین لییہ روشنی کا شہر کوئی کیسے ڈَس گیا جس سے وفا کی

پلکوں سے اب کے ابر جو کھل کر برس گیا Read More »

شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہے

شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہےیہ الگ بات کہ اک آس لگا رکھی ہے کتنا ساکت ہے ترے عہد کے اخلاص کا جسمسوچ کی آنکھ بھی پتھرائی ہوئی لگتی ہے پھر کوئی تازہ مصائب کا بھنور دیکھیں گےآب تسکیں پہ کوئی لہر نئی اُبھری ہے حوصلہ ہار گیا دل تو چھٹی درد کی

شاخِ آشوب پہ کب کوئی کلی کھلتی ہے Read More »

دوش ہوا کے سات بہت دُور تک گئی

دوش ہوا کے سات بہت دُور تک گئیخوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپشب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہربرقِ تبسمات بہت دُور تک گئی خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے

دوش ہوا کے سات بہت دُور تک گئی Read More »

سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں

سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیںزیست کے بے خواب گھر میں کوئی جگنو بھی نہیں نااُمیدی! تیرے گھیراؤ سے ڈر لگنے لگادھڑکنوں کے دشت میں اک چشم آہو بھی نہیں جسم کے حساس پودے کو نمو کیسے ملےقرب کی ٹھنڈی ہوا کیا کرب کی لو بھی نہیں ہم سفر ہیں مصلحت کا

سوچ کی دستک نہیں یادوں کی خوشبو بھی نہیں Read More »

جسم کے گھور اندھیرے سے نہ باہر نکلوں

جسم کے گھور اندھیرے سے نہ باہر نکلوںاس کی خواہش ہے کہ میں اپنا سفر جاری رکھوں اپنی تنہائی کا یہ حبس مٹانے کے لیےجی یہ چاہے کہ ترے حسن پہ آوازہ کسوں تو نے ناحق ہی گرجنے کا تکلف برتامیں تو بپھرے ہوئے طوفان کا رُخ موڑتا ہوں عمر بھر جس کے لیے میں

جسم کے گھور اندھیرے سے نہ باہر نکلوں Read More »

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سےتیرا پیار بھی کم نکلا اندازے سے تم جو میری بات سُنے بِن چل دیتےرات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھاسوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے آنکھیں پیار کی دھوپ سے جھلسی جاتی ہیںروشن ہے اب چہرہ درد کے غازے

دل کا شیشہ ٹوٹ گیا آوازے سے Read More »

وہ ہنس رہا ہے اسے دل دکھانا آتا ہے

وہ ہنس رہا ہے اسے دل دکھانا آتا ہےمیں رو رہا ہوں مجھے مسکرانا آتا ہے ہم ایسے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتےہمارے بعد ہمارا زمانہ آتا ہے دیے جلاؤں گا یوں ہی میں صبح ہونے تکوہ دل جلائے جسے دل جلانا آتا ہے نئے مکاں میں نئے خواب دیکھتے ہیں لوگہمیں تو یاد وہی

وہ ہنس رہا ہے اسے دل دکھانا آتا ہے Read More »

وقت مزدور ہے اجرت دیجے

وقت مزدور ہے اجرت دیجےایک اک لمحے کی قیمت دیجے مجھ سے یہ بوجھ نہیں اٹھ سکتامشورہ کوئی مجھے مت دیجے ہجر کی رات نہیں ڈھلنے کیاب چراغوں کو اجازت دیجے کام کچھ دل کے ہیں کچھ دنیا کےاک ذرا سی مجھے مہلت دیجے دل کو آباد ہی کرنا ہے تو پھروہی دیوار وہی چھت

وقت مزدور ہے اجرت دیجے Read More »