MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے

جو آنسووں میں کبھی رات بھیگ جاتی ہے
بہت قریب وہ آواز پا لگے ہے مجھے

میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میں
تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے

میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں
وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے

دبا کے آئی ہے سینے میں کون سی آہیں
کچھ آج رنگ ترا سانولا لگے ہے مجھے

نہ جانے وقت کی رفتار کیا دکھاتی ہے
کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے

بکھر گیا ہے کچھ اس طرح آدمی کا وجود
ہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے

اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھیئے
ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے

حکایتِ غمِ دل کچھ کشش تو رکھتی ہے
زمانہ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے

جاں نثار اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم