MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ڈنڈے والا قرض دار

تحریر شان الحق حقی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کچھ روپیہ قرض لیا۔ مگر ٹھہریے پہلے کچھ قرض پر بات ہو جائے۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ قرض مانگنا بری بات ہے۔ ہمارے سر قدرت کی طرف سے اتنے قرضے ہیں کہ ہم اور زیادہ قرضوں کا

ڈنڈے والا قرض دار Read More »

درد جو دل میں ہے وہ سب سے نہاں ہوتا ہے

درد جو دل میں ہے وہ سب سے نہاں ہوتا ہے حالِ دل اپنا نہیں ہم سے بیاں ہوتا ہے اپنا احوال سناتے نہیں ہم غیروں کو رب کا ہی نام تو بس وردِ زباں ہوتا ہے نہ کوئی سمجھا محبت کو مری آج تلک جذبہِ شوق کہاں سب پہ عیاں ہوتا ہے سب کو

درد جو دل میں ہے وہ سب سے نہاں ہوتا ہے Read More »

کیوں سب کو دلبر بولتے ہیں ؟

کیوں سب کو دلبر بولتے ہیں ؟ سنا ہے ہم نے اکثر بولتے ہیں مقدر کے سکندر بولتے ہیں جو دل کے ہوں قلندر بولتے ہیں نہیں جو تولتے لفظوں کو اپنے ہلاہل زہر خنجر بولتے ہیں انھیں ہم دوست کیسے اپنا کہہ دیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر بولتے ہیں ہمیں تو سیدھے رستے

کیوں سب کو دلبر بولتے ہیں ؟ Read More »

نئی سازش کوئی پھر ہورہی ہے

نئی سازش کوئی پھر ہورہی ہے جو یہ مکار چپ سادھے ہوئے ہیں ابھی ڈھونڈا نہیں کوئی بہانہ ابھی عیار چپ سادھے ہوئے ہیں بھرم دشمن کا ہم نے ایسا دیکھا لئے ہتھیار چپ سادھے ہوئے ہیں کبھی کرتے تھے اظہار وفا جو وہی اب یار چپ سادھے ہوئے ہیں دکھاتے تھے کسی کو آئینہ

نئی سازش کوئی پھر ہورہی ہے Read More »

پوچھے نہ مجھ سے کوئی کہاں پر مکیں ہوں میں

پوچھے نہ مجھ سے کوئی کہاں پر مکیں ہوں میں ملتا سکوں جہاں وہیں مسند نشیں ہوں میں ہوں خاک کا میں ذرّہ نگینہ نہیں ہوں میں رب کا کرم ہے خاص کہ سجدہ نشیں ہوں میں خالق نے مجھ کو بخشا ہے اک ایسا مرتبہ اُس کے جمال و نُور سے روشن جبیں ہوں

پوچھے نہ مجھ سے کوئی کہاں پر مکیں ہوں میں Read More »

جائے نہ کبھی چھوڑ کے ایسا ہے دسمبر

جائے نہ کبھی چھوڑ کے ایسا ہے دسمبر کیوں اپنی وفاؤں پہ نہ اِترائے دسمبر گو آخری ہے ماہ ، یہ ہر سال کا لیکن ہر سال مگر خود کو ہی دہرائے دسمبر ٹھٹھرے جو ہواؤں سے ، ترا جسم دعا ہے گرمی تری سانسوں میں دیئے جائے دسمبر جس ماہ میں چھا جائے اداسی

جائے نہ کبھی چھوڑ کے ایسا ہے دسمبر Read More »

چراغ دل میں وفا کا جلا لیا میں نے

چراغ دل میں وفا کا جلا لیا میں نے ہزار عیبوں کو اُس کے چھُپا لیا میں نے مِرے خیال سے بڑھ کر نکل گیا شاطر سمجھ لیا تھا کبھی جس کو با وفا میں نے کیا تھا وعدہ رہیں گے ہم ایک ساتھ مگر دغا دیا مجھے اس کو بھی سہہ لیا میں نے

چراغ دل میں وفا کا جلا لیا میں نے Read More »

قلب و نظر جگر سبھی شاداں تو کیجیے

قلب و نظر جگر سبھی شاداں تو کیجیے مسکان سے مجھے ذرا فرحاں تو کیجیے نازاں ہوں جان ِ جاناں محبت ہے آپ کی چاہت کو میری اور فروزاں تو کیجیے دوری نہ مار ڈالے کہِیں آپ کی مجھے سپنے مرے سجانے کا ساماں تو کیجیے اس ہجر میں بھی درد کی لذّت ہے بےپناہ

قلب و نظر جگر سبھی شاداں تو کیجیے Read More »

طُوفاں جسے نہ ڈھا سکے وہ ہی مکاں ہوں میں

طُوفاں جسے نہ ڈھا سکے وہ ہی مکاں ہوں میںگھر کے در و دیوار سنبھالوں وہ ماں ہوں میں مجھ کو یقیں ہے مجھ میں بسا ہے میرا اللہ کچھ اس لیے سکون سے دل ہے جہاں ہوں میں کوئی بھی نہیں سمجھے گا حالات کو مرے وہ جانتا ہے راہ پہ کیسی رواں ہوں

طُوفاں جسے نہ ڈھا سکے وہ ہی مکاں ہوں میں Read More »

کیسے گزرے ہیں مِرے دن نہ سوالات کریں

کیسے گزرے ہیں مِرے دن نہ سوالات کریں کس لیے آپ کو ہم واقف حالات کریں تِری تصویر سے باتیں ہی میں اب کرتی ہوں "دوستوں کو نہیں فرصت کہ کوئی بات کریں” رات دن میرے گزرتے ہیں تِری یادوں میں آ مِرے سامنے جاں تجھ سے ملاقات کریں حال میں اس کا سُنوں اور

کیسے گزرے ہیں مِرے دن نہ سوالات کریں Read More »