MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ان کی محفل میں جب بلائے گئے

ان کی محفل میں جب بلائے گئے ہم جو پہنچے تو ظلم ڈھائے گئے زخم کھا کھا کے اپنے سینے پر لب پہ مسکان ہم سجائے گئے جس طرح سے وہ ظلم ڈھاتے ہیں وار ہم سے نہ یوں چلائے گئے وار کاری لگا تھا خنجر کا " اور ہم تھے کہ مسکرائے گئے” ہم

ان کی محفل میں جب بلائے گئے Read More »

تیرا فسوں غزل تری باتیں ردیف تھیں

تیرا فسوں غزل تری باتیں ردیف تھیں تھی زندگی غزل تری یادیں ردیف تھیں ظلم و ستم فراق کی رسمیں ردیف تھیں لاتی تھیں تیری یاد جو شامیں ردیف تھیں جب کھل کے آیا سامنے محسوس تب ہوا کردار میں ترے کئی پرتیں ردیف تھیں یوں ہمسفر ہوئے تھے پہ باہم نہ رہ سکے قسمت

تیرا فسوں غزل تری باتیں ردیف تھیں Read More »

راز دل کا یوں کھلا قرطاس پر

راز دل کا یوں کھلا قرطاس پر ایک آنسو گر گیا قرطاس پر اک بھرم تھا یوں زباں نہ کھل سکی اور سب کچھ کہہ دیا قرطاس پر سچ کو دیکھا لفظ گونگے ہو گئے کس طرح دیتی صدا قرطاس پر تھیں ملاقاتیں بھی کاغذ کی طرح ہو رہا ہے فاصلہ قرطاس پر میری رودادِ

راز دل کا یوں کھلا قرطاس پر Read More »

دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے

دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے تم نے تو ابھی کچھ نہیں دیکھا مرے آگے آنکھیں جو کروں بند رلاتا ہے تصور ہر دم ہے کھڑا یاد کا فتنہ مرے آگے اک پیکرِ پیمانِ وفا ہے مرے پیچھے مدہوش نگاہوں میں ہے کیا کیا مرے آگے نفرت بھری رشتوں میں تو مذہب میں ہیں

دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے Read More »

ہوگا نہ کبھی وعدہ وفا رات گئے تک

ہوگا نہ کبھی وعدہ وفا رات گئے تک بس ہجر کی آئے گی صدا رات گئے تک جب یاد تری آئی سر شام ستمگر نیندوں کو میں روتا ہی رہا رات گئے تک اشکوں سے ہی دھل جاتا ہے ہر صبح یہ قرطاس یوں نام تو لکھتے ہیں ترا رات گئے تک آنسو نظر آتے

ہوگا نہ کبھی وعدہ وفا رات گئے تک Read More »

اک درد دل میں عشق کا یوں عمر بھر رہا

اک درد دل میں عشق کا یوں عمر بھر رہا بدنام اس جہاں میں مرا چارہ گر رہا لے کر چلا ہے وہ مجھے دنیا سے دور اب اک انتظارِ وصل جو شام و سحر رہا ظلمات بھی جفا کی نہ بھٹکا سکی مجھے روشن تمہاری یاد سے داغِ جگر رہا کوئی نہ ساتھ دے

اک درد دل میں عشق کا یوں عمر بھر رہا Read More »

بس اک من درپن ہو گا

بس اک من درپن ہو گا خاک یہ سارا تن ہو گا دن بوڑھے ہونے کو ہیں راتوں پر جوبن ہو گا آنکھیں جب ساغر ہوں گی ساقی میرا من ہو گا تن ہو بوڑھا بھی تو کیا سوچ میں بالا پن ہوگا سر پھوڑیں گے الفت میں پتھر گر ساجن ہو گا ہجر ہو

بس اک من درپن ہو گا Read More »

گرمیء جذبہء سراسر کا

گرمیء جذبہء سراسر کا راز کھل جائے نا قلندر کا ہو ادا گر زبان سے اس کی کام کرتا ہے لفظ خنجر کا دل میں رکھا تھا ایک پتھر کو ہو گیا دل مرا بھی پتھر کا کتنے صحرا سما گئے اس میں حوصلہ دیکھئے سمندر کا عشق نے کر دیا ہے دیوانہ کر ادب

گرمیء جذبہء سراسر کا Read More »

نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے

نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے ستم کی ایک خونی داستاں ہے کبھی تھا ہجر الفت میں رکاوٹ وصال اب تیرے میرے درمیاں ہےبیگم لٹا کیسے، کہاں سب، کچھ نہ پوچھو کہ اک رہزن ہی میرِ کارواں ہے یہی غم بن گیا الفت میں طاقت یہی غم زندگی کا امتحاں ہے بجھے گی

نہ پوچھو عشق میں کیا کیا نہاں ہے Read More »

زخم ترے اطوار کے اکثر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں

زخم ترے اطوار کے اکثر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں تیر، زباں ، تلوار کے نشتر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں چہرے بدلے عادت بدلی روح نے پھونکی جان نئی ورنہ سب مٹی کے پیکر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں کون پڑا ہوگا رستوں پر کس کو پوجا جائے گا یوں دیکھو تو سارے پتھر

زخم ترے اطوار کے اکثر ایک ہی جیسے ہوتے ہیں Read More »