ان کی محفل میں جب بلائے گئے
ان کی محفل میں جب بلائے گئے ہم جو پہنچے تو ظلم ڈھائے گئے زخم کھا کھا کے اپنے سینے پر لب پہ مسکان ہم سجائے گئے جس طرح سے وہ ظلم ڈھاتے ہیں وار ہم سے نہ یوں چلائے گئے وار کاری لگا تھا خنجر کا " اور ہم تھے کہ مسکرائے گئے” ہم
ان کی محفل میں جب بلائے گئے Read More »