درد جو دل میں ہے وہ سب سے نہاں ہوتا ہے
حالِ دل اپنا نہیں ہم سے بیاں ہوتا ہے
اپنا احوال سناتے نہیں ہم غیروں کو
رب کا ہی نام تو بس وردِ زباں ہوتا ہے
نہ کوئی سمجھا محبت کو مری آج تلک
جذبہِ شوق کہاں سب پہ عیاں ہوتا ہے
سب کو معلوم ہے، یک جان دو قالب ہم تھے
اب جو جیتے ہیں تو یہ جینا کہاں ہوتا ہے
کوئی دستک سی مرے دل پہ ہوئی ہے سلمی
"آپ آئے ہیں، مجھے ایسا گماں ہوتا ہے”
سلمی رضا سلمیٰ