MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رہِ جفا کی نشانی میں لکھ دیا تجھ کو

رہِ جفا کی نشانی میں لکھ دیا تجھ کو کہ اپنی زندہ کہانی میں لکھ دیا تجھ کو کتابِ یادِ نہانی میں لکھ دیا تجھ کو وفا نے یوسفِ ثانی میں لکھ دیا تجھ کو خموشیوں سے نہیں نام لکھ سکی تیرا تو اب کے شعلہ بیانی میں لکھ دیا تجھ کو یہ انگلیاں تو

رہِ جفا کی نشانی میں لکھ دیا تجھ کو Read More »

انجام بخیر۔۔۔۔۔۔۔۔ (افسانہ )

پطرس بخاری منظر۔۔ ایک تنگ و تاریک کمرہ جس میں بجز ایک پرانی سی میز اور لرزہ بر اندام کرسی کے اور کوئی فرنیچر نہیں۔ زمین پر ایک چٹائی بچھی ہے جس پر بےشمار کتابوں کا انبار لگا ہے۔ اس میں سے جہاں جہاں کتابوں کی پشتیں نظر آتی ہیں وہاں شیکسپیئر، ٹالسٹائے، ورڈزورتھ وغیرہ

انجام بخیر۔۔۔۔۔۔۔۔ (افسانہ ) Read More »

مزاج آپ کا دنیا سے کچھ کشیدہ سہی

مزاج آپ کا دنیا سے کچھ کشیدہ سہیفریب کھاؤ گے پھر بھی، فریب دیدہ سہی یہ سبز باغ کا عالم، یہ رنگِ لیل و نہاربہل ہی جائے گا دل، آپ سے رمیدہ سہی یہ غنچہ کیسا کہ دیکھے سے دل دھڑکتا ہےارے یہ ایک ہی فتنہ ہے، نو دمیدہ سہی نگاہِ شوق کی گرمی خدا

مزاج آپ کا دنیا سے کچھ کشیدہ سہی Read More »

رنگ لاتی ہے آخر ایک جُنبشِ لب کیا

رنگ لاتی ہے آخر ایک جُنبشِ لب کیادیکھئے دکھاتا ہے وعدۂ مذبذب کیا چُلّو بھر میں متوالی، دو ہی گھونٹ میں خالییہ بھری جوانی کیا، جذبۂ لبالب کیا ہاں دعائیں لیتا جا، گالیاں بھی دیتا جاتازگی تو کچھ پہنچے، چابتا رہوں لب کیا شامت آ گئی آخر کہہ گیا خدا لگتیراستی کا پھل پاتا، بندۂ

رنگ لاتی ہے آخر ایک جُنبشِ لب کیا Read More »

کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہےاک طرف اُجڑتی ہے، ایک سمت بستی ہے بے دلوں کی ہستی کیا، جیتے ہیں نہ مرتے ہیںخواب ہے نہ بیداری، ہوش ہے نہ مستی ہے کیمیائے دل کیا ہے، خاک ہے مگر کیسی؟لیجیے تو مہنگی ہے، بیچیے تو سستی ہے خضرِ منزل اپنا ہوں، اپنی راہ چلتا ہوںمیرے

کارگاہِ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے Read More »

حُسن پر فرعون کی پھبتی کہی

حُسن پر فرعون کی پھبتی کہیہاتھ لانا یار کیوں کیسی کہی دامنِ یوسف ہی بھڑکاتا رہاعشق اور ترکِ ادب اچھی کہی کوئی ضد تھی یا سمجھ کا پھیر تھامن گئے وہ، میں نے جب اُلٹی کہی درد سے پہلے کروں فکرِ دواواہ یہ اچھی الٹوانّسی کہی دوست سے پردہ کیا یہ کیا کیاآپ بیتی چھوڑ

حُسن پر فرعون کی پھبتی کہی Read More »

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیاخدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا پیامِ زیرِ لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیااشارہ پاتے ہی انگڑائی لی، رہا نہ گیا ہنسی میں وعدۂ فردا کو ٹالنے والولو دیکھ لو وہی کل آج جن کے آ نہ گیا گناہِ زندہ دلی کہیے یا دل

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا Read More »

کس کی آواز کان میں آئی

کس کی آواز کان میں آئیدُور کی بات دھیان میں آئی ایسی آزاد رُوح اس تن میںکیوں پرائے مکان میں آئی آپ آتے رہے بلاتے رہےآنے والی اک آن میں آئی ہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہےجب کبھی امتحان میں آئی علم کیا، علم کی حقیقت کیاجیسی جس کے گمان میں آئی یہ کنارہ چلا

کس کی آواز کان میں آئی Read More »

من کہ بر نمی تابم دردِ زیستن تنہا

من کہ بر نمی تابم دردِ زیستن تنہاصبح دم چساں بینم شمعِ انجمن تنہا تا کجا اماں یابد از ہجومِ جاں بازاںگوشہ گیرِ فانوسے ، بہرِ سوختن تنہا ہر گلے و ہر خارے فتنہ ہا بر انگیزدالحذر دلِ حیراں صد بہار و من تنہا ذوق می تواں دانست رنگِ حسنِ نادیدہشاہدیست غمّازے ، بوے پیرہن

من کہ بر نمی تابم دردِ زیستن تنہا Read More »

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتاپرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا بُرا ہو پائے سرکش کا کہ تھک جانا نہیں آتاکبھی گمراہ ہو کر راہ پر آنا نہیں آتا مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گامجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا دلِ بے حوصلہ ہے اک

مجھے دل کی خطا پر یاس شرمانا نہیں آتا Read More »