MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لذّتِ زندگی مُبارک باد

لذّتِ زندگی مُبارک بادکل کی کیا فکر؟ ہر چہ بادا باد اے خوشا زندگی کہ پہلوئے شوقدوست کے دم قدم سے ہے آباد دل سلامت ہے، دردِ دل نہ سہیدرد جاتا رہا کہ درد کی یاد؟ زیست کے ہیں یہی مزے واللہچار دن شاد، چار دن ناشاد کون دیتا ہے دادِ ناکامیخونِ فرہاد برسرِ فرہاد

لذّتِ زندگی مُبارک باد Read More »

آرہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے

آرہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سےکل کی ہے بات کہ آباد تھے دِیوانوں سے لے چلی وحشتِ دِل کھینچ کے صحرا کی طرفٹھنڈی ٹھنڈی جو ہوا آئی بیابانوں سے پاؤں پکڑے نہ کہِیں کوچۂ جاناں کی زمِیںخاک اُڑاتا جو نکل آؤں بیابانوں سے تنکے چُن جا کے کسی کوچے میں او دستِ جنُوںکیوں

آرہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے Read More »

دلِ آگاہ نے جب راہ پہ لانا چاہا

دلِ آگاہ نے جب راہ پہ لانا چاہاعقلِ گم راہ نے دیوانہ بنانا چاہا ناگہاں چرخِ ستم گار نے کروٹ بدلیبختِ بیدار نے جب مجھ کو جگانا چاہا پھر سمانے لگی دنیا کی ہوا "مَیں” کی طرحزانوئے فکر سے جب سر کو اُٹھانا چاہا دلِ بیدار نے گھبرا کے مجھے چونکایانفس نے جب کسی مشکل

دلِ آگاہ نے جب راہ پہ لانا چاہا Read More »

دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا

دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہامحمل نشیں تو رہ گیا محمل نہیں رہا پہنچی نہ اُڑ کے دامنِ عصمت پہ گرد تکاس خاک اُڑانے کا کوئی حاصل نہیں رہا رکھتے نہیں کسی سے تسلی کی چشم داشتدل تک اب اعتبار کے قابل نہیں رہا آہستہ پاؤں رکھیے قیامت نہ کیجیےاب کوئی سر

دل کی ہوس وہی ہے مگر دل نہیں رہا Read More »

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سےاور میں چپ رہا ہمیشہ سے سب ہواؤں سے جنگ کرتا رہاایک ننھا دیا ہمیشہ سے سوچ پر لگ سکی نہ پابندییوں ہی آئی ہوا ہمیشہ سے کتنی شکلیں بدل کے آتا ہےاک وہی واقعہ ہمیشہ سے بات آسودگی کی ہوتی ہےکون کس کو ملا ہمیشہ سے یاد کرتا رہا

لب تک آیا گلہ ہمیشہ سے Read More »

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دےچیخوں تو پیڑ پات بھی بہرا دکھائی دے ہر شخص اپنے آپ کو کرتا رھے تلاشہر شخص اپنے اپ میں چھپتا دکھائی دے میں ہی نہیں ہوں اپنی تباہی کی داستاںوہ بھی اب اپنے آپ سے لڑتا دکھائی دے کرتا رہا تلاش جو ماں اپنی عمر بھرمجھ کو

دیکھوں تو شہر بھر ہی تماشا دکھائی دے Read More »

اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوں

اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوںرقص کرتا ہوں مگر ترشے ہوئے پتھر میں ہوں میرے اندر دو صفیں ہیں صرف تیرے واسطےروز لڑتا ہوں ہے جو خود سے میں اسی لشکر میں ہوں میرا مالک بھی مری قیمت سے خود واقف نہیںاک خزانہ ہو کے میں ٹوٹے ھوئے چھپر میں ہوں

اک تلاطم میں ہوں شورش میں ہوں چکر میں ہوں Read More »

جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھا

جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھااس لڑکے کا نام بتاؤ کیا وہ بھی میرے جیسا تھا جو کہتا تھا تم اچھی ھو اور تم سے اچھا کوئی نہیںوہ لڑکا اب بھی سچا ھے اور پہلے بھی سچا تھا اس کا جذبہ میرا جذبہ اور کتابیں ایک سی ھیںباتیں کیسی

جس نے تم کو چاند کہا اور جس نے خوشبو جانا تھا Read More »

اس کی یادوں کا سلسلہ ھو گا

اس کی یادوں کا سلسلہ ھو گااس کہانی میں اور کیا ھو گا جب بچھڑ کر بھی وہ خاموش رہاگھر پہنچ کر تو رو دیا ھو گا خود کو سمجھا لیا ھے میں نے مگرکیا وہ خود بھی بدل گیا ھو گا اتنا آساں نہ تھا مجھے کھونااس نے خود کو گنوا دیا ھو گا

اس کی یادوں کا سلسلہ ھو گا Read More »

سیر کہاں کی کیا کیا دیکھا جو بھی بیتا حال لکھو

سیر کہاں کی کیا کیا دیکھا جو بھی بیتا حال لکھوکیسے گزرا سال تمہارا ہم کو سب احوال لکھو پہلے پہل جب ملک چھٹا اور دیس نیا اک دیکھا توکس کو سوچا یاد کیا کیاکیا آئے خیال لکھو کیا یاد ہماری آئی تھی یا بھول گئے ہر عہد وفاوقت نے کچھ باقی بھی رکھا یا

سیر کہاں کی کیا کیا دیکھا جو بھی بیتا حال لکھو Read More »