MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہیزخم ھر لمحہ نئے درد ملا روز وہی وھی اک وصل کیخواھش کیلیے ہجر کی شاموحشت جاں کے لیے حرف دعا روز وہی وھی اک شخص کی خاطر نئی بست کا پتہشکلیں ھر روز نئی راہ وفا روز وہی ھر نئے روز نئی طرح سے زندہ رہناوحشتیں روز وھی

حادثہ روز نیا واقعہ تھا روز وہی Read More »

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ھونے تک

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ھونے تکخیال درد نہ آیا نجات ھونے تک ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانندبچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ھونے تک عجیب رنگ بدلتی ھے اس کی نگری بھیھر ایک نہر کو دیکھا فرات ھونے تک وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازیمیں

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ھونے تک Read More »

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کیہر بات پہ یاد آتی ہے ہر بات اسی کی​ جگنو سے چمکتے ہیں اسی یاد کے دم سےآنکھوں میں لیے پھرتے ہیں سوغات اسی کی​ ہر شعلے کے پیچھے ہے اسی آگ کی صورتہر بات کے پردے میں حکایات اسی کی​ لفظوں میں

یہ آنکھ بھی ، یہ خواب بھی ، یہ رات اسی کی Read More »

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی ایک تم سے کیا محبت ہو گئیساری دنیا سے عداوت ہو گئی یاس ہی اس دل کی فطرت ہوگئیآرزو جو کی وہ حسرت ہو گئی جو مری ہونی تھی حالت ہو گئیخیر اک دنیا کو عبرت ہو گئی دل میں

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی Read More »

جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتی

جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتیترے ضو کا فلک بنتا مرے ظل کی زمیں ہوتی تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ہوتیاکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دل نشیں ہوتی وہاں رہتے جہاں دودو فغاں کا آسماں ہوتاوہاں بستے جہاں خاکسترِ دل کی زمیں ہوتی پتہ چلتا کہ غم میں زندگی

جو صورت گیرحسن وعشق کی دنیا کہیں ہوتی Read More »

کسی کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہوکر

کسی کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہوکرتو اپنا بوریا بھی پھر ہمیں تختِ سلیماں تھا ذرا دیکھو تویہ الٹی رسائی میری قسمت کیوہ نکلا غیر کے دل سے جو میرے دل کا ارماں تھا ہنسے بھی ہم تو مثلِ برق وہ ہنسنا ہنسے اے دلکہ جس ہنسنے میں دنیا بھر کا

کسی کی یاد میں بیٹھے جو سب سے بے غرض ہوکر Read More »

چمکنے لگا سربسرنورہوکر

چمکنے لگا سربسرنورہوکرمیں جل جانےوالانہیں طورہوکرتری یادمیں خودسےبھی دورہوکرمیں بس رہ گیا نورہی نورہوکرنہ پاس آؤاتنے چلودورہوکرمیں کچھ اور کہہ دوں نہ منصور ہوکرسرِدارہوکرسرِطورہوکرترےپاس آیابڑی دورہوکرنہ ترساؤہرگام پردورہوکرکوئی ہاربیٹھےنہ مجبورہوکرزباں چپ رہی گرچہ مجبورہوکررہابال بال اپنا منصورہوکرتصورسلامت تحیرسلامتمیں بیٹھاہوں اپنی جگہ طورہوکربدلنے لگے کروٹیں اہل مرقدذرادور ہوکر ذرادورہوکریہ کس کے لیے جان دیتے چلاہوںچلی آرہی

چمکنے لگا سربسرنورہوکر Read More »

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیںکوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں بڑے ہشیار ہیں وہ جن کو سب غافل سمجھتے ہیںنظر پہچانتے ہیں وہ مزاج دل سمجھتے ہیں وہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیںوہ حسن ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں Read More »

عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہے

عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہےوہ کیا جانے کہ زخمِ دل کہاں تک تھا کہاں تک ہے مرا خاموش ہو جانا دلیلِ مرگ ہے گویامثالِ نَے مرا جینا فغاں تک تھا فغاں تک ہے نہ دھوکہ دے مجھے ہمدم وہ آیا ہے نہ آئے گاپیامِ وعدۂ وصلت زباں تک تھا

عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہے Read More »

جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا

جلوہ فرما دیر تک دل بر رہااپنی کہہ لی سب نے میں ششدر رہا جسم بے حس بے شکن بستر رہامیں نئے انداز سے مضطر رہا میں خراب بادہ و ساغر رہادل فدائے ساقیٔ کوثر رہا میں رہا تو باغ ہستی میں مگربے نوا بے آشیاں بے پر رہا سب چمن والوں نے تو لوٹی

جلوہ فرما دیر تک دل بر رہا Read More »