"وڈیو کال”
کسی خوابیدہ موسم میں تمہاری یاد کا بادل برستا ہے تو دل صحرا بہت سیراب ہوتا ہے بہت جب یاد آتے ہو میں اپنے فون پر چہرہ تمہارا دیکھ لیتی ہوں مگر یہ دل نہیں بھرتا جو وڈیو کال پر آ کر سمجھتے ہیں، کہ اس سے دوریاں باقی نہیں رہتیں ! ۔۔۔۔تو پھر ان
کسی خوابیدہ موسم میں تمہاری یاد کا بادل برستا ہے تو دل صحرا بہت سیراب ہوتا ہے بہت جب یاد آتے ہو میں اپنے فون پر چہرہ تمہارا دیکھ لیتی ہوں مگر یہ دل نہیں بھرتا جو وڈیو کال پر آ کر سمجھتے ہیں، کہ اس سے دوریاں باقی نہیں رہتیں ! ۔۔۔۔تو پھر ان
سفر کی جب بھی ٹھانو تم دیا جب بھی جلاؤ تم ہمیشہ من میں رکھو تم دیے کی لو بڑھانا ہے اجالا بانٹ دینا ہے سفر میں جب بڑھو گے تم یقیناً جان لو گے تم دیے کی لو بڑھانے سے سفر میں ساتھ دینے سے محبت بانٹ دینے سےکبھی یہ کم نہیں ہوتی مسافت
"اجالے بانٹ دینا تم” Read More »
یہ چاندنی گر یقین بن کر محبتوں کے حسین موسم اتار لاۓ تو رات ڈھل کر نیا سویرا نئی بہاریں سنوار لائے یوں شہر ِ دل کے اداس موسم ، اداس رنگوں کی رائگانی سمیٹ کر پھر ہوا کے ہاتھوں نیا کوئی اک پیام لائے۔ کسی سنہری کرن کے ہاتھوں نئی امیدیں اجالتے ہی سمندروں
یہ چاندنی گر یقین بن کر Read More »
خزاں کے موسم کی پہلی پتجھڑ حسین رنگوں ، سنہرے پت٘وں کی رہ گزر پر گزشتہ برسوں کا گیت سننے میں ہی مگن ہے خزاں کے موسم کی پہلی بارش بکھرتے خوابوں کا دکھ سمو کر برس رہی ہے شجر پہ ہر سو بکھرتی کرنیں یوں ٹہنیوں پر سنہرے آنچل سجا سجا کر نمو کا
ہوا کے ہاتھ پر خوشبو اداسی شام کی اوڑھے سکوت بام و در چھو کر محبت کا یقیں کیسے دلائے گی ردائے دلنشیں شب کی فضائے خوش گما نی میں حسیں سپنے جو لائے گی تو اپنی رائیگانی پر بہت آنسو بہاۓ گی پلٹ جائے گی یہ خوشبو تھکی ہاری ہوا کی اس ہتھیلی پر
ہوا کے ہاتھ پر خوشبو۔۔۔” Read More »
“یقین” یہ میرے آنگن کی سب بہاریں سبھی نظارے یہ رنگ سارے یہ پھول سارے یوں مجھ سے نظریں چرا رہے ہیں کہ جیسے مجھ کو گئی رتوں کی کوئی کہانی سنا رہے ہیں کہ صحنِ دل کے حسین موسم کی بے ثباتی کہاں تھمی ہے ہوا بھی تیور بدل رہی ہے گلی کے کونے
کبھی بہاروں کے مو سموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی وہیں کہیں ایک آرزو کے مچلنے کی بھی بڑی کتھا تھی جلا کے جب ساری کشتیاں میں سمندروں کے سفر پہ نکلی اسی گھڑی تو جبینِ شب پر لکھی گئی جو مری دعا تھی بنا سہاروں کے زیست مشکل گزار آئی تو
کبھی بہاروں کے مو سموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی Read More »
خیالوں میں خیالوں کی ملاقاتیں ضروری ہیں ادھوری اس کہانی میں کئی باتیں ضروری ہیں حقیقت میں ، فسانے میں، بہت ہے فرق یہ مانا مگر کچھ تو محبت کی بھی برساتیں ضروری ہیں عجب ہے وسوسہ دل میں ، نیا اک عشق ہو جیسے پرکھنا ہے اسے تو پھر ملاقاتیں ضروری ہیں بہت سے
خیالوں میں خیالوں کی ملاقاتیں ضروری ہیں Read More »
عجب محشر سا دل میں آج برپا ہو گیا ہے خموشی گونجتی ہے، شور اتنا ہو گیا ہے ہمارا رابطہ اب منقطع ہے ہر کسی سے زمانہ آشنا جب سے تمہارا ہو گیا ہے یہاں پر روشنی تھی قہقہے تھے زندگی تھی مرا یہ شہر اب سنسان سارا ہو گیا ہے مرا پچپن ہے اب
عجب محشر سا دل میں آج برپا ہو گیا ہے Read More »
یہاں بن موسموں کی بارشوں کا سلسلہ ہے نمو کی منتظر کچھ کونپلوں کا سلسلہ ہے فلک سے جو بھی اتر ے کیا گلہ اُس کا کہ یوں بھی زمیں پر سانس لیتی خواہشوں کا سلسلہ ہے جنونِ عشق کے رستے میں ہے اک ایسا دریا جہاں پر تیرتے ٹوٹے گھڑوں کا سلسلہ ہے یہ
یہاں بن موسموں کی بارشوں کا سلسلہ ہے Read More »