MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے
اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھا
احساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتاہے

پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیں
اس خوف سے وہ پوشاک نہیں ، بس خواب بدلتا رہتا ہے

چھ دن تو بڑی سچائی سے سانسوں نے پیام رسانی کی
آرام کا دن ہے کس سے کہیں دل آج جو صدمے سہتا ہے

ہر عہد نے زندہ غزلوں کے کتنے ہی جہاں آباد کیے
پر تجھ کو دیکھ کے سوچتا ہوں اک شعر ابھی تک رہتا ہے

غلام محمد قاصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم