MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوابِ گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا

خوابِ گل رنگ کے انجام پہ رونا آیاآمدِ صبح شب اندام پہ رونا آیا دل کا مفہوم اشاروں سے اجاگر نہ ہوابے کسئِ گلۂ خام پہ رونا آیا کبھی الفت سی جھلکتی ہے کبھی نفرت سیاے تعلق ترے ابہام پہ رونا آیا مری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیںجانے کیوں آج اسی نام پہ

خوابِ گل رنگ کے انجام پہ رونا آیا Read More »

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میںمرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روحدیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگےسوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں Read More »

رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا

رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گامیرا ہر فقرہ مکمّل داستاں ہو جائے گا دھیرے دھیرے اجنبیت ختم ہو ہی جائے گیرہتے رہتے یہ قفس بھی آشیاں ہو جائے گا ہم نے حاصل کرنے چاہا تھا خلوصِ جاوداںکیا خبر تھی کوئی ہم سے بدگماں ہو جائے گا فطرتِ انساں میں ہونا چاہئے ذوقِ

رازِ دل پابندیوں میں بھی بیاں ہو جائے گا Read More »

زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے

زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لےبغیرِ شکایت مصائب میں جی لے حوادث کی زد میں بڑے جا رہے ہیںمری آرزوؤں کے نازک قبیلے وہ ساتھی جسے غم سے نسبت نہیں ہےالم کو کریدے نہ زخموں کو چھیلے غرور و محبت میں تفریق دیکھویہ سونے کی وادی یہ مٹی کے ٹیلے ہمیں دل کی

زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے Read More »

دھوپ کہیں ہے، چھاؤں کہیں ہے

دھوپ کہیں ہے، چھاؤں کہیں ہےکوئی بھی لذت عام نہیں ہے یوں بیٹھے ہیں تھکے مسافرجیسے منزل یہیں کہیں ہے گردشِ دوراں ، توبہ! توبہ!ہم کو خدا بھی یاد نہیں ہے جس کو چاہا ، حسن میں ڈھالاتجھ سے میری آنکھ حسیں ہے اُن کی کوئی بات سناؤجن کا مجھ سے میل نہیں ہے دوست

دھوپ کہیں ہے، چھاؤں کہیں ہے Read More »

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیںمیں خوش ہوں اس لیے کہ کوئی مہرباں نہیں آغوشِ حادثات میں پائی ہے پرورشجو برق پھونک دے وہ مرا آشیاں نہیں کیوں ہنس رہے ہیں راہ کی دشواریوں پہ لوگہوں بے وطن ضرور مگر بے نشاں نہیں گھبرائیے نہ گردشِ ایام سے ہنوزترتیبِ فصل‌ِ گل ہے یہ دورِ

بے جا نوازشات کا بارِ گراں نہیں Read More »

غمِ دل حیطہِ تحریر میں آتا ہی نہیں

غمِ دل حیطہِ تحریر میں آتا ہی نہیںجو کناروں میں سمٹ جائے وہ دریا ہی نہیں اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسےسب کا اس دور میں یہ حال ہے ، میرا ہی نہیں برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہےمَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں اک کرن

غمِ دل حیطہِ تحریر میں آتا ہی نہیں Read More »

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھےگزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے نئی رُتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئےوہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کیکہ اب تو جا کہ کہیں دن سنورنے والے تھے ہزار مجھ سے وہ پیمانِ وصل

وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے Read More »

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتی

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتیتری راہ میں چلنے والوں سے لیکن کبھی بھول نہیں ہوتی سرِ کوچۂ عشق آ پہنچے ہو لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہاںکوئی نیکی کام نہیں آتی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی ہر چند اندیشۂ جاں ہے بہت لیکن اس کارِ محبت میںکوئی پل بے

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتی Read More »

جمال وعدہ ء یک نانِ خشک پر رہنا​

جمال وعدہ ء یک نانِ خشک پر رہنا​ہمارے واسطے آساں ہے عمر بھر رہنا​ ​سرھانا جان کے پتھر تلک چُرا لیں گے​سفر میں جاگتے رہنا جدھر جدھر رہنا​ ​کوئی بھی ہو اُسے لاتا ہے کم وہ خاطر میں​ہمیں بھی اپنی ہوا میں زیادہ تر رہنا​ ​کئی دنوں سے عجب حال ہو گیا اپنا​نہ اُس گلی

جمال وعدہ ء یک نانِ خشک پر رہنا​ Read More »