ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے
ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہےدشت اور نگر ملا دیا ہے جُز عشق کسے ملی یہ توفیقجو پایا اُسے گنوا دیا ہے پہلے ہی بہت تھا ہجر کا رنجاب فاصلوں نے بڑھا دیا ہے آبادیوں سے گئے ہُوؤں کوصحراؤں نے حوصلہ دیا ہے دیوار بدست راہ رو تھےکس نے کسے راستہ دیا ہے بچھڑا تو
ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے Read More »