MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے​

ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے​دشت اور نگر ملا دیا ہے​ ​جُز عشق کسے ملی یہ توفیق​جو پایا اُسے گنوا دیا ہے​ ​پہلے ہی بہت تھا ہجر کا رنج​اب فاصلوں نے بڑھا دیا ہے​ ​آبادیوں سے گئے ہُوؤں کو​صحراؤں نے حوصلہ دیا ہے​ ​دیوار بدست راہ رو تھے​کس نے کسے راستہ دیا ہے​ ​بچھڑا تو

ہر قرضِ سفر چُکا دیا ہے​ Read More »

کیاری خالی خالی ہے​

کیاری خالی خالی ہے​گہری سوچ میں مالی ہے​ ​رنگ ہے وہ اُڑنے والا​آنکھ وہ بھولنے والی ہے​ ​اُکتا کر تنہائی سے​اک تصویر بنالی ہے​ ​ہات ہوا میں لہرائے​گاڑی جانے والی ہے​ ​نامانوس لب و لہجہ​صورت دیکھی بھالی ہے​ ​مائیں دروازوں پر ہیں​بارش ہونے والی ہے​ ​کچھ نہیں اُس کی مُٹھی میں​میرا ہاتھ بھی خالی ہے​

کیاری خالی خالی ہے​ Read More »

جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا​

جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا​بہر نفس یہ زیاں عمرِ ناتمام کا تھا​ ​یہ کیا ہوا کہ بھرے آسماں کے آنگن میں بچھڑ گیا جو ستارہ ہمارے نام کا تھا​ ​بڑھا کے اُس سے رہ و رسم اب یہ سوچتے ہیں​وہی بہت تھا جو رشتہ دعا سلام کا تھا​ ​ہر اک کے بس

جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا​ Read More »

وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا​

وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا​دیکھا پلک جھپک کے تو منظر ہی اور تھا​ ​تیرے بغیر جس میں گزاری تھی ساری عمر​تجھ سے جب آئے مل کے تو وہ گھر ہی اور تھا​ ​سُنتا وہ کیا کہ خوف بظاہر تھا بے سبب ​کہتا میں اُس سے کیا کہ مجھے ڈر کچھ اور

وہ ہاتھ ہی تھا اور، وہ پتھر ہی اور تھا​ Read More »

تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے​

تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے​ہمراہ بھی ہجوم کے چلنا محال ہے​ ​حرفِ دعا کا صفحہ ء دستِ بلند پر​وہ بوجھ ہے کہ ہاتھ بدلنا محال ہے​ ​دل نے جلائی ہیں جو سرِ طاقِ انتظار​اُن موم بتیوں کا پگھلنا محال ہے​ ​گم کیا ہوا ہے کاسہ ء درویش شہر میں​نظریں اُٹھا کے شہر

تنہا بھی منہ اُٹھا کے نکلنا محال ہے​ Read More »

سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ​

سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ​دشت اب اپنی جگہ باقی نہ گھر اپنی جگہ​ ​نامساعد صورتِ حالات کے باوصف بھی​خود بنالیتے ہیں جنگل میں شجر اپنی جگہ​ ​میں بھی نادم ہوں کہ سب کے ساتھ چل سکتا نہیں​اور شرمندہ ہیں میرے ہمسفر اپنی جگہ​ ​کیوں سِمٹتی جا رہی ہیں خود بخود آبادیاں​چھوڑتے

سب بدلتے جا رہے ہیں سر بسر اپنی جگہ​ Read More »

اُس کو تو جیت دیکھنا یا ہار دیکھنا​

اُس کو تو جیت دیکھنا یا ہار دیکھنا​مجھ کو مگر لڑائی کا معیار دیکھنا​ ​آوارگی کو چھوڑے زمانہ ہوا مگر​آیا نہیں ابھی ہمیں گھر بار دیکھنا​ ​خلوت میں آنکھ بھر کے جسے دیکھنا محال​ہر انجمن میں اس کو لگاتار دیکھنا​ ​لوگوں کو تیرے کوچے کی رونق پہ سوچنا​ہم کو ترے مکان کی دیوار دیکھنا​ ​حبسِ

اُس کو تو جیت دیکھنا یا ہار دیکھنا​ Read More »

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیابس اک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارےاگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا جو دل کے طاق میں تو نے چراغ رکھا تھانہ پوچھ میں نے اسے کس طرح ستارہ کیا پرائی آگ کو گھر میں اٹھا کے لے آیایہ

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا Read More »

ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے

ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہےیا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے اک بھولی ہوئی بات ہے اِک ٹوٹا ہوا خوابہم اہلِ محبت کو یہ اِملاک بہت ہے کچھ دربدری راس بہت آئی ہے مجھ کوکچھ خانہ خرابوں میں مِری دھاک بہت ہے پرواز کو پر کھول نہیں پاتا ہوں اپنےاور

ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے Read More »

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتااس کماندار کا یہ تیر نہیں ہو سکتا سایہ داری کی روایت کا اگر پاس رکھیںپھر کھجوروں کا تو شہتیر نہیں ہو سکتا دفن ہیں ہاتھ ہمارے اسی ملبے میں کہیںیہ خرابہ کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا کیا ستم ہے کہ بچھڑ کر ترا پھر سے ملناوجہ تبدیلیٔ

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا Read More »