جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے
جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملےسارے تعینات سے اک دن مفر ملے افواہ کس نے ایسی اڑائی کہ شہر میںہر شخص بچ رہا ہے نہ اس سے نظر ملے دشواریاں کچھ اور زیادہ ہی بڑھ گئیںگھر سے چلے تو راہ میں اتنے شجر ملے طے کرنا رہ گئی ہیں ابھی کتنی منزلیںجو
جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے Read More »