MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملےسارے تعینات سے اک دن مفر ملے افواہ کس نے ایسی اڑائی کہ شہر میںہر شخص بچ رہا ہے نہ اس سے نظر ملے دشواریاں کچھ اور زیادہ ہی بڑھ گئیںگھر سے چلے تو راہ میں اتنے شجر ملے طے کرنا رہ گئی ہیں ابھی کتنی منزلیںجو

جس کی نہ کوئی رات ہو ایسی سحر ملے Read More »

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاںاجڑنے لگیں خود بہ خود بستیاں جسے دیکھنے گھر سے نکلے تھے ہمدھواں ہو گیا شام کا وہ سماں سبھی کچھ تو دریا بہا لے گیاتجھے اور کیا چاہئے آسماں بس اک دھند ہے اور کچھ بھی نہیںروانہ ہوئی تھیں جدھر کشتیاں ابھی طے شدہ کوئی جادہ نہیںابھی تک

کوئی غل ہوا تھا نہ شور خزاں Read More »

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھےکوئی صدا ہمیں روکے گی اس گمان میں تھے عجیب بستی تھی چہرے تو اپنے جیسے تھےمگر صحیفے کسی اجنبی زبان میں تھے بہت خوشی ہوئی ترکش کے خالی ہونے پرذرا جو غور کیا تیر سب کمان میں تھے علاج ڈھونڈھ نکالیں گے اپنی وحشت کاجنوں نواز ابھی

ٹھکانے یوں تو ہزاروں ترے جہان میں تھے Read More »

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گےتمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس باریہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑاکہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے سنا ہے آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیںتم

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے Read More »

خانہ بدوش

یہ جنگل کی آہو یہ صحرا کے راہیتصنّح کے باغی دلوں کے سپاہیفقیری لبادے تو اندازِ شاہییہ اکھڑ ، یہ انمول یہ بانگے سجیلےیہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے مصائب سے کھیلے حوادث کے پالےہیں روشن جبیں ، گو ہیں پاؤں میں چھالےیہ پیتے ہیں ہنس ہنس کے تلخی کے پیالےکہ جیسے کوئی مَدھ بھرا

خانہ بدوش Read More »

جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے

جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہےہر سُو کھڑی تھی پانی کی دیوار ، یاد ہے پھر پھول توڑنے کو بڑھاتے ہو اپنا ہاتھوہ ڈالیوں میں سانپ کی پُھنکار، یاد ہے وہ بے وفا کہ جس کو بھلانے کے واسطےخود سے رہا ہوں برسرِپیکار، یاد ہے اب کون ہے جو وقت کو زنجیر

جب چُھٹ گئے تھے ہاتھ سے پتوار، یاد ہے Read More »

غم کی تصویر بن گیا ہوں میں

غم کی تصویر بن گیا ہوں میںان کی توقیر بن گیا ہوں میں خوابِ پنہاں تھے آپ کے جلوےجن کی تعبیر بن گیا ہوں میں آج ہستی ہے کیوں تبسم ریزکس کی تقدیر بن گیا ہوں میں آپ چُھپ چُھپ کے مسکراتے ہیںوجہِ تشہیر بن گیا ہوں میں جو بھی ہے ہم خیال ہے میراحسنِ

غم کی تصویر بن گیا ہوں میں Read More »

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاںپیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں سر پٹک کر درِ زنداں پہ صبا نے یہ کہاہے دریچہ، نہ کوئی روزنِ دیوار یہاں عہدو پیمانِ وفا، پیار کے نازک بندھنتوڑ دیتی ہے زرو سیم کی جھنکار یہاں ننگ و ناموس کے بکتے ہُوئے انمول رتنلب و رُخسار

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں Read More »

ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا

ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیادریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا لگتا تھا بے کراں مجھے صحرا میں آسماںپہنچا جو بستیوں میں تو خانوں میں بٹ گیا یا اتنا سخت جان کہ تلوار بے اثریا اتنا نرم دل کہ رگِ گل سے کٹ گیا بانہوں میں آ سکا نہ حویلی کا اک

ساحل تمام اشکِ ندامت سے اٹ گیا Read More »

اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے

اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہےاجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے اُس کو مذکور کہیں شکوہ محسن میں نہیںمیری خودار روایات سے دُکھ پہنچا ہے دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوصایک انساں کو تری ذات سے دُکھ پہنچا ہے احتراماً مرے ہونٹوں پہ مسلط تھا سکوتاُن کے بڑھتے

اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے Read More »