MOJ E SUKHAN

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا
اس کماندار کا یہ تیر نہیں ہو سکتا

سایہ داری کی روایت کا اگر پاس رکھیں
پھر کھجوروں کا تو شہتیر نہیں ہو سکتا

دفن ہیں ہاتھ ہمارے اسی ملبے میں کہیں
یہ خرابہ کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا

کیا ستم ہے کہ بچھڑ کر ترا پھر سے ملنا
وجہ تبدیلیٔ تقدیر نہیں ہو سکتا

ایسی پیوست ہیں پیروں میں یہ کڑیاں کہ فراغؔ
کوئی بھی شامل زنجیر نہیں ہو سکتا

اظہر فراغ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم