MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھیمیں تو ہر طرح سے ہوں رائیگاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی مرے ہم نفس تو چراغ تھا تجھے کیا خبر مرے حال کیکہ جیا میں کیسے دھواں دھواں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی نہ ترا وصال وصال تھا نہ تری جدائی جدائی ہےوہی

کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی Read More »

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میںدست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سےخود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجودمتروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کیچھوٹوں کی مہربانی

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں Read More »

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکاکوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنیسو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئےکسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا Read More »

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئےروشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیںہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کرمنفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے زندہ رہنے کے لئے کچھ

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے Read More »

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا

کوششیں کر کے دل برا کیا تھااس پرندے کو جب رہا کیا تھا کم اذیت میں جان چھوٹ گئیاپنے قاتل سے مشورہ کیا تھا خاک سے جتنا زہر جذب کیااپنی شاخوں سے رونما کیا تھا میں نے اک دن بٹھا کے بچوں کواپنے اجداد کا گلا کیا تھا ہم سے سرزد ہوا تھا کار خیرکیا

کوششیں کر کے دل برا کیا تھا Read More »

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھاتالے کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا کبھی کبھی آتی تھی پہلے وصل کی لذت اندر تکبارش ترچھی پڑتی تھی تو کمرہ گیلا ہوتا تھا شکر کرو تم اس بستی میں بھی اسکول کھلا ورنہمر جانے کے بعد کسی کا سپنا پورا ہوتا تھا جب تک

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا Read More »

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھاتالے کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا کبھی کبھی آتی تھی پہلے وصل کی لذت اندر تکبارش ترچھی پڑتی تھی تو کمرہ گیلا ہوتا تھا شکر کرو تم اس بستی میں بھی اسکول کھلا ورنہمر جانے کے بعد کسی کا سپنا پورا ہوتا تھا جب تک

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا Read More »

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شام

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شامکسی کے ساتھ گزاری کسی کے نام کی شام ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کاگزر گئی ہے سفر میں مرے قیام کی شام نہ کوئی خواب دکھایا نہ کوئی عہد کیابدن ادھار لیا بھی تو اس سے شام کی شام مسافروں کے لیے دشت کیا سرائے کیاہمیں تو

محبتوں میں نئے طرز انتقام کی شام Read More »

اسی لیے ترے دعوؤں پہ مسکرا رہے ہیں

اسی لیے ترے دعوؤں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پُشت سے اُٹھا رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئینے ترتیب سے لگا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سَرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہِلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار

اسی لیے ترے دعوؤں پہ مسکرا رہے ہیں Read More »

یار تم کیا کمال کر گئے ہو

یار تم کیا کمال کر گئے ہومجھ کو مجھ سے نکال کر گئے ہو ساری یادیں ہی لے کے چلتے بنےہجر تک کو نڈھال کر گئے ہو اپنی آنکھوں کے اک اشارے سےدھڑکنیں تم بحال کر گئے ہو اپنے ہونٹوں سے نام لے کے مراپھر سے مجھ کو سنبھال کر گئے ہو کس قدر تیرگی

یار تم کیا کمال کر گئے ہو Read More »