MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بہت خود سے رعایت کر رہا ہوں

بہت خود سے رعایت کر رہا ہوںمگر پھر بھی بغاوت کر رہا ہوں تو کیا اے زندگی یہ کم ہے اب تکمیں جینے کی جسارت کر رہا ہوں غموں سے کیسے گھبراوں کہ ان کیمیں بچپن سے ریاضت کر رہا ہوں میں اپنی شکل میں تشکیل ہو کرکہیں خود کو ہی غارت کر رہا ہوں

بہت خود سے رعایت کر رہا ہوں Read More »

کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیا

کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیامجھ کو میری انتہا کے سامنے رکھا گیا ڈھونڈتا ہی رہ گیا منصف اسے تعزیر میںجرم میرا جب سزا کے سامنے رکھا گیا جب کبھی ساحل کی جانب رخ سفینے کا ہوااک طلاطم ناخدا کے سامنے رکھا گیا پھر سبھی دست,دعا بے ساختہ اٹھتے گئےمدعا میرا خدا کے

کیوں مسلسل ہی فنا کے سامنے رکھا گیا Read More »

کھلا ہوا ہے فلک پر گلاب سورج کا

کھلا ہوا ہے فلک پر گلاب سورج کازمین جھیلے گی لیکن عذاب سورج کا شبیہہ اترے کسی ہاتھ پر تمازت کیکہیں حوالہ تو ہو دستیاب سورج کا مجھے خبر ہے کہ آنکھیں ہیں موم کی لیکنیہ دل بضد ہے کہ دیکھوں میں خواب سورج کا یہ لوگ جس کو سمندر کا نام دیتے ہیں زمیں

کھلا ہوا ہے فلک پر گلاب سورج کا Read More »

زندگی کو سبق سکھا دوں گا

زندگی کو سبق سکھا دوں گازندہ رہ کر اسے دکھا دوں گا وہ مری چشم تر کو ترستے گاضبط کا سلسلہ بڑھا دوں گا زیب دیتا ہے آسماں کو غرورخاک زادہ؛ میں اس کو کیا دوں گا بے اجازت جو خواب آئے تونیند سے خود کو میں جگا دوں گا اپنی یادیں تو سونپ دوں

زندگی کو سبق سکھا دوں گا Read More »

تو جو چاہے تو ترا درد مٹا سکتا ہوں

تو جو چاہے تو ترا درد مٹا سکتا ہوںتیرا دل تیری ہتھیلی پہ بھی لا سکتا ہوں اتنا آساں تو نہیں تم کو بھلانا لیکنٹھان لوں دل میں تو خود کو بھی بھلا سکتا ہوں یہ ضروری تو نہیں تم سے ہی میں عشق کروںجب جہاں چاہوں ہنر اپنا دکھا سکتا ہوں میری خود ساختہ

تو جو چاہے تو ترا درد مٹا سکتا ہوں Read More »

جانتا ہوں میں سب مگر پھر بھی

جانتا ہوں میں سب مگر پھر بھیہے گلہ بے سبب مگر پھر بھی ایک اقرار کی تمنا میںمیں ہوا جاں بلب مگر پھر بھی اپنی قیمت کا بھی ہے اندازہہے فزوں تر طلب مگر پھر بھی کون کافر کبھی ہوا منکروہ ہے لا ریب رب مگر پھر بھی حسن اور آئینے سے کترائےماجرا ہے عجب

جانتا ہوں میں سب مگر پھر بھی Read More »

آپ ہو جائیں بے وفا پھر بھی

آپ ہو جائیں بے وفا پھر بھیہم ہیں پابندِ التجا پھر بھی عرش ہلتا نہیں ہے اشکوں سےلب پہ رہتی ہے اک دعا پھر بھی دوستوں نے تو مارنا چاہادشمنوں نے بچا لیا پھر بھی ایک شعلہ بھی گھر جلا نہ سکالوگ دیتے رہے ہوا پھر بھی سب چراغوں کو آپ گل کر دیںروشنی دے

آپ ہو جائیں بے وفا پھر بھی Read More »

رسم احساس ہی دنیا سے مٹا دی جائے

رسم احساس ہی دنیا سے مٹا دی جائےاب نہ پھولوں کو مہکنے کی ادا دی جائے اب نہ آنگن میں کسی پیڑ کو رکھا جائےچھاؤں دینے کی انہیں بھی تو سزا دی جائے اب یہ زنجیر مجھے روک نہیں پائے گیاب مرے پاؤں پہ زنجیر بنا دی جائے اب یہ شعلے بھی ہواؤں کو بہت

رسم احساس ہی دنیا سے مٹا دی جائے Read More »

اپنے سارےخواب گنوا کر آئے ہیں

اپنے سارےخواب گنوا کر آئے ہیںپھر بھی کچھ تو نام کما کرآئے ہیں تھوڑی سی تاخیر سے پہنچے ہیں لیکناپنا رستہ آپ بنا کر آئے ہیں لوگ تری تصویر سے باتیں کرتے ہیںہم تیری آواز سنا کر آئے ہیں ہم نے خود سے پہلے منزل پانا تھیرستے کو رفتار بنا کر آئے ہیں گھر کی

اپنے سارےخواب گنوا کر آئے ہیں Read More »

جو واہی تباہی سرِ بازار پھرے ہے

جو واہی تباہی سرِ بازار پھرے ہےتجھ ہی سے نہیں خود سے بھی بیزار پھرے ہے ہر سمت ترا عکس ہے ہر شے میں فقط توکیا ساتھ کوئی آئینہ بردار پھرے ہے آیا ہے جو آنکھوں میں الٹ کر دلِ بیتاباس رخ بھی کوئی یارِ طرحدار پھرے ہے اس دور میں جینے کی اٹھائے ہوئے

جو واہی تباہی سرِ بازار پھرے ہے Read More »