خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے
خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہےنظروں میں وہی ابروئے خمدار پھرے ہے اک شخص بظاہر یہاں بے بیکار پھرے ہےآئینہ لیے کوچہء دلدار پھرے ہے دیتے ہیں سنائی ہمیں بجتے ہوئے گھنگروکیا لے کے ہوا اب تری گفتار پھرے ہے ہے کوئی پری رُو جو سرِ دشتِ غزالاںپہنے تری پازیب کی جھنکار پھرے
خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے Read More »