MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے

خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہےنظروں میں وہی ابروئے خمدار پھرے ہے اک شخص بظاہر یہاں بے بیکار پھرے ہےآئینہ لیے کوچہء دلدار پھرے ہے دیتے ہیں سنائی ہمیں بجتے ہوئے گھنگروکیا لے کے ہوا اب تری گفتار پھرے ہے ہے کوئی پری رُو جو سرِ دشتِ غزالاںپہنے تری پازیب کی جھنکار پھرے

خنجر ہے کوئی اور نہ تلوار پھرے ہے Read More »

آنکھ کی پُتلی کا ہر اک عکس اب گہرا ہوا

آنکھ کی پُتلی کا ہر اک عکس اب گہرا ہواورنہ پانی اِس ندی کا تھا کبھی گدلا ہوا چاند چہرہ اُسنے ہاتھوں پر ٹکایا جس گھڑیاُس کے ہاتھوں کا کٹورا چاند کا ہالہ ہوا اپنے جوبن پر نظر آیا جو ماہِ شب تمامسطحِ دریا پر وہ چہرہ آئینہ چہرہ ہوا ایک ہی صورت تواتر سے

آنکھ کی پُتلی کا ہر اک عکس اب گہرا ہوا Read More »

دل چاک کرو ہو نہ جگر چاک کرو ہو

دل چاک کرو ہو نہ جگر چاک کرو ہوتم پھر بھی لہو رنگ یہ پوشاک کرو ہو اب تم سے سنبھالے نہیں جاتے یہ خم و پیچکیا فائدہ زلفوں سے جو پیچاک کرو ہو پیروں کی دھمک سے تو نہ اُلٹی یہ زمیں بھیکیا زیرِ قدم سرحدِ افلاک کرو ہو کیوں خود کو جلاتے ہو

دل چاک کرو ہو نہ جگر چاک کرو ہو Read More »

آنکھوں میں کھبے جائے ہے تصویر لگے ہے

آنکھوں میں کھبے جائے ہے تصویر لگے ہےاشعار سے جھلکے ہے جواں، میر لگے ہے سو بار لکھا ہے اسے سو بار پڑھا ہےپھر بھی وہ کوئی اجنبی تحریر لگے ہے رکھے ہے نظر اپنی ہی خامی پہ جو ہر پلتنکا بھی اُسے آنکھ کا شہتیر لگے ہے جس لقمے میں شامل ہوسِ لقمہ اے

آنکھوں میں کھبے جائے ہے تصویر لگے ہے Read More »

تمہارےآنے کے سارے رستے جو آؤ روشن کیے ہوئے ہوں

تمہارےآنے کے سارے رستے جو آؤ روشن کیے ہوئے ہوںقیام کا جو کرو ارادہ پڑاؤ روشن کیے ہوئے ہوں بھنور بھی لپٹے ہوں دست و پا سے ہزار طوفاں بھی سر اُٹھائیںمیں اُس کی جانب ندی کے سارے بہاؤ روشن کیے ہوئے ہوں مرا خدا میرا ناخدا ہے یہ سوچ لے تند و تیز دریاجو

تمہارےآنے کے سارے رستے جو آؤ روشن کیے ہوئے ہوں Read More »

زہر اگلتے رہتے ہیں وہ کانوں میں

زہر اگلتے رہتے ہیں وہ کانوں میںلوگ گھرے رہتے ہیں جو نادانوں میں اُیک گلی میں اندھی بتی جلتی تھیہم بھی شامل تھے اُس کے پروانوں میں بھائی بہن سب گرمی کی دوپہری میںرسہ کودا کرتے تھے دالانوں میں گھر پچھواڑے بھی باغیچہ ہوتا تھاگانے ہم گاتے تھے اونچی تانوں میں اک دوجے کے پیچھے

زہر اگلتے رہتے ہیں وہ کانوں میں Read More »

خوابوں کی وادی میں گم بے فکری کی نیند

خوابوں کی وادی میں گم بے فکری کی نینداماں کی گودی کی گرمی بچپن جیسی نیند کانوں میں رس گھولا کرتے لوری کے وہ بولنندیا پور کی سیر کرانے لے جاتی تھی نیند ہلکی سی بھی آہٹ پر اب کھل جاتی ہے آنکھورنہ ہو جاتی تھی اپنے گاؤں میں پوری نیند جب تک ابا جیتے

خوابوں کی وادی میں گم بے فکری کی نیند Read More »

ایروں غیروں سے میں نے سنا ہے بہت آئیے بیٹھ کر بات کر لیجئیے ۔۔۔

ایروں غیروں سے میں نے سنا ہے بہت آئیے بیٹھ کر بات کر لیجئیے ۔۔۔آپ کو مجھ سے شکوہ گلہ ہے بہت آئیے بیٹھ کر بات کر لیجئیے یہ زمیں مجھ سے بھرنا ہے بھر دیجئے جیتے جی دفن کرنا ہے کردیجیئے۔۔۔مہرباں مجھ پہ میرا خدا ہے بہت آئیے بیٹھ کر بات کر لیجئیے ہر

ایروں غیروں سے میں نے سنا ہے بہت آئیے بیٹھ کر بات کر لیجئیے ۔۔۔ Read More »

جس گھڑی راہ پرخار میں نے چنی ساتھ اس نے بھی عزم سفر کر لیا

جس گھڑی راہ پرخار میں نے چنی ساتھ اس نے بھی عزم سفر کر لیاصبح سورج نکلنے سے پہلے چلے، جس جگہ ہو گئی رات گھر کر لیا دم بہ دم ایک دیوار اٹھتی گئی اک چھری میرا سینہ کھرچتی گئیجیسے جیسے گھٹن شہر کی بڑھ چلی میں نے دل میں نیا ایک در کر

جس گھڑی راہ پرخار میں نے چنی ساتھ اس نے بھی عزم سفر کر لیا Read More »

مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے

مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتےپلکوں سے گِرے اشک سنبھالا نہیں کرتے تاخیر ہوئی ہے تو کوئی وجہ بھی ہوگییوں دل میں کوئی واہمے پالا نہیں کرتے پھر بعد میں رونا پڑے جس کے لیے، اُس کویوں خواب جھروکوں سے نکالا نہیں کرتے جس شخص کے ہونٹوں سے ہنسی چھین لی تم نےکیوں آکے

مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے Read More »