بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتےجاتے ہوئے لمحوں کو صدائیں نہیں دیتے مانا یہی فطرت ہے مگر اس کو بدل دوبدلے میں وفاؤں کے جفائیں نہیں دیتے گر پھول نہیں دیتے تو کاٹتے بھی تو مت دومُسکان نہ دینی ہو تو آہیں نہیں دیتے تم نے جو کیا، اچھا کیا، ہاں یہ گلا ہےمنزل
بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے Read More »