MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں جان جہاں ایسا نہیں ہے

نہیں جان جہاں ایسا نہیں ہے
یہ بندھن ٹوٹنے والا نہیں ہے

نہ اُترے گا تمہارے پیار کا رنگ
یہ دِھیما ہے مگر کچا نہیں ہے

میں اپنی روح دے کر جسم لے لوں
یہ سودا اس قدر سستا نہیں ہے

کھلی ہیں کھڑکیاں لیکن مکاں گم
اُن آنکھوں کے تلے چہرہ نہیں ہے

جب اپنے اپنے مقصد یاد آئے
کھُلا، ہم میں کوئی رشتہ نہیں ہے

اَبھی اِک لمحہ پہلے سوچتے تھے
کہ دُنیا میں کوئی ہم سا نہیں ہے

اور اب یہ بھی نہیں ہے یاد ہم کو
وجود اپنا کہیں ہے یا نہیں ہے

جدا ہونے کا اس موسم میں خالدؔ
اسے بھی دکھ ہے پر اتنا نہیں ہے

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم