MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑ

غزل تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑکسی سے کر مرا سودا مگر مجھے مت چھیڑ ترے چراغ کی لو مضمحل نہ ہونے پائےاندھیرا کر کے اجالا مگر مجھے مت چھیڑ تو چور ہے تو عبث مجھ سے حجتیں کیوں ہیںجو چیز چاہیے لے جا مگر مجھے مت چھیڑ ترا جنون ہے زیادہ مرے

تو انتقام لے اپنا مگر مجھے مت چھیڑ Read More »

یہ زندگی مجھے تسلیم کیوں نہیں کرتی

غزل یہ زندگی مجھے تسلیم کیوں نہیں کرتیمرے شعور کی تنظیم کیوں نہیں کرتی یہ کوئی چیز جو میرے خلاف ہے مجھ میںمرے وجود کو تقسیم کیوں نہیں کرتی اسے پسند نہیں ہیں مرے سوال تو پھرکسی سوال میں ترمیم کیوں نہیں کرتی ہمارے خواب امر ہیں تو پھر کوئی تعبیرہمارے خوابوں کی تفہیم کیوں

یہ زندگی مجھے تسلیم کیوں نہیں کرتی Read More »

عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہ

غزل عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہمری حیات مرا اعتدال اپنی جگہ اداسیاں اثر انداز ہو رہی ہیں الگبگولے بنتا ہوا اشتعال اپنی جگہ ہے اس کی آنکھوں میں سچائی فیصلوں کی الگہمارے چہرے پہ رنگِ ملال اپنی جگہ جو تنگ دست ہیں ان کو انا کا زعم بہتاداس اداس ہیں آسودہ حال اپنی

عروج اپنی جگہ ہے زوال اپنی جگہ Read More »

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحبپاؤں ٹکتے ہی نہیں اپنے زمیں پر صاحب خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر بات کے بیچہاں کا دھوکہ ہو ہمیں اس کی نہیں پر صاحب تخت یاروں کو ہے غم شاہ کی معزولی کااور فدا بھی ہیں نئے تخت نشیں پر صاحب ہم

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب Read More »

جن کی نظروں کے آپ گھائل ہیں

جن کی نظروں کے آپ گھائل ہیںاُن کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں صنفِ نازک ہم ابنِ آدم ہیںہم ازَل سے تمہارے قائل ہیں اک زمانہ ہی درمیان نہیںمشکلیں اور کچھ بھی حائل ہیں یونہی اِک لمحہ رک گئے تھے یہاںہم کسی اور در کے سائل ہیں ہاں وہ اک اور شخص ہے یاروجس پہ

جن کی نظروں کے آپ گھائل ہیں Read More »

بجھتے ہوئے شعلوں کو تھوڑی سی ہوا دینا

بجھتے ہوئے شعلوں کو تھوڑی سی ہوا دینااِک اَشک گرا دینا، اک شمع جلا دینا سمجھائے گی وہ تم کو باریکیاں اُلفت کیتم بھی اُسے غالبؔ کا اک شعر سنا دینا وہ کیسے نہ آئے گی، یہ ہو ہی نہیں سکتااک بار ذرا دل سے تم اس کو صدا دینا ہم بھی تو دوانے ہیں

بجھتے ہوئے شعلوں کو تھوڑی سی ہوا دینا Read More »

جب سے قلم کو خامۂ مانی بنا لیا

جب سے قلم کو خامۂ مانی بنا لیاہم نے جگر کے خون کو پانی بنا لیا یوں ہم نے شہر شہر تری داستاں کہیہر سنگِ رہ کو دشمنِ جانی بنا لیا میں نے پرو دیئے ترے بالوں میں سرخ پھولاور اپنے روز و شب کو کہانی بنا لیا کیا جانے کس خیال میں اُٹھی تھی

جب سے قلم کو خامۂ مانی بنا لیا Read More »

نارسائی ہے کہ تو ہے کیا ہے

نارسائی ہے کہ تو ہے کیا ہےیاد کرکے جسے جی ڈوبا ہے اے غمِ جاں ترے غم خواروں کاصبر اب حد سے سوا پہنچا ہے آئینہ تھا کہ مرا پیکر تھاتیری باتوں سے ابھی بکھرا ہے آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہےکون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے میرے ہاتھوں کی لکیروں میں کوئیزندگی

نارسائی ہے کہ تو ہے کیا ہے Read More »

بس اِک ہم ہیں کہ مٹی سے محبت کر رہے ہیں

بس اِک ہم ہیں کہ مٹی سے محبت کر رہے ہیںپرندے بھی یہاں سے اَب تو ہجرت کر رہے ہیں کسی یوسف کو بلوائو زنانِ مصر پھر سےکئی صدیوں سے یہ بازار وحشت کر رہے ہیں اُنہیں معلوم ہے سب ہیں منافق اُن کے پیچھےوہ کتنے شوق سے پھر بھی امامت کر رہے ہیں درختوں

بس اِک ہم ہیں کہ مٹی سے محبت کر رہے ہیں Read More »

اَے کہ میں تیرے لیے تھا اور تو میرے لیے

اَے کہ میں تیرے لیے تھا اور تو میرے لیےاب ترے ہاتھوں پہ لکھا ہے لہو میرے لیے میری بکھری ٹکڑیوں میں پھوٹنے والے ہیں پرمیرے قاتل جال پھیلا چار سُو میرے لیے کاش ایسا ہو کہ اب کے بے وفائی میں کروںتُو پھرے قریہ بہ قریہ کُوبہ کُو میرے لیے میں تو لا محدود

اَے کہ میں تیرے لیے تھا اور تو میرے لیے Read More »