MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں

زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیںہم اُسی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں اِک دعا ہے جو مانگنی ہے ہمیںدر پہ با چشمِ تر کھڑے ہوئے ہیں سحر ہے ، بد دعا ہے یا ہے نظرسب شجر بے ثمر کھڑے ہوئے ہیں ایک چکر ہے پاؤں میں ایساراستے میں سفر کھڑے ہوئے ہیں روشنی فرش پر

زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں Read More »

تعلق کانچ کا برتن نہیں ہے

تعلق تعلق کانچ کا برتن نہیںہاتھوں سے چھوٹےاور چکنا چور ہو جائےتعلق آہنی دیوار ہوتا ہےتعلق آسمانوں پر چمکتااک ستارہ بھی نہیںجو رات بھر چمکےمگر جیسے ہی سورجاپنی کرنوں کو زمیں پرپھیلنے کا حکم دے تووہ کہیں روپوش ہو جائےتعلق آسماں ہےموسموں کا حسن کب ہےجو سدا باقی نہیں رہتاتعلق تو ہوا ہےاور ضمانت ہے

تعلق کانچ کا برتن نہیں ہے Read More »

تم بوجھ نہیں سکتے

مسلسل سانس لیتی ہے مگر پھر بھیوہاں موجودہر اک شخص کی خواہش ہے کہاک قبر کھودےاور اُسے اُس قبر میں رکھ دےکہانی ختم کردےقبر پر کتبہ لگا کر گھر چلا جائےاور اُس کتبے پہبس اِک لفظ لکھا ہوذرا بوجھوکہ وہ اک لفظ کیا ہوگاذرا بوجھومگر تم کیسے بوجھو گےکہ تم بھی توانہی لوگوں میں شامل

تم بوجھ نہیں سکتے Read More »

اس طرح وقت کی لہروں سے نہ ٹکرائے کوئی

اس طرح وقت کی لہروں سے نہ ٹکرائے کوئی عکس پانی میں رہے اور چلا جائے کوئی کیسے ممکن ہے کہ یک سمت رہے دل کی پکارکیسے آسان ہو مشکل مری سمجھائے کوئی ٹوٹ جاتا ہے وفاؤں کے ترازو کا بھرمدل کی مسند سے اگر ٹوٹ کے گرجائے کوئی کتنا مشکل ہے ہواؤں سے بغاوت

اس طرح وقت کی لہروں سے نہ ٹکرائے کوئی Read More »

بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو

بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو بارہا یہ سمجھایا دل کا درد کہنے سے بے قرار رہنے سے اور تھوڑا بڑھتا ہے درد کم نہیں ہوتا زخم کو کھرچنے سے اور گہرا ہوتا ہے مندمل نہیں ہوتا ذہن کے دریچوں میں نام کھود لینے سے اپنا کون ہوتا ہے کرب اوڑھ لینے سے کوئی

بے قرار لوگوں کو سوگوار لوگوں کو Read More »

اکیلے رستے میں زندگی کے جو چل نہ پائے تو کیا کرو گے

اکیلے رستے میں زندگی کے جو چل نہ پائے تو کیا کرو گے سفر کی تنہائی میں تمہیں ہم جو یاد آئے تو کیا کرو گے خمار لے کر نئی محبت کا، چھوڑ کر ہم کو چل پڑے ہو تمہیں نشہ اس شراب کا گر نہ راس آئے تو کیا کرو گے ابھی تو تم

اکیلے رستے میں زندگی کے جو چل نہ پائے تو کیا کرو گے Read More »

لاکھ جذبات کو چاہا بھی ، دبایا نہ گیا

لاکھ جذبات کو چاہا بھی ، دبایا نہ گیا دل کی بے چین امنگوں کو سلایا نہ گیا اتنا گلشن میں بہاروں نے اٹھایا محشر پھول کیا خار کو بھی ہاتھ لگایا نہ گیا رت جگے کرنے کی عادت سی پڑی ہے جب سے خواب پھر کوئی بھی آنکھوں میں سجایا نہ گیا اس قدر

لاکھ جذبات کو چاہا بھی ، دبایا نہ گیا Read More »

درد اور آنسو چھپے ہوتے ہیں ہر فنکار میں

درد اور آنسو چھپے ہیں وقت کی رفتار میںمسکراہٹ ڈھل رہی ہے تب ہی تو اشعار میں ہر نظر ہی تیر ہے ، تلوار ہے اس کے لئے کوئی دوشیزہ نکل آئے اگر بازار میں اب مسیحا بن کے آجائے کوئی ، کیا فائدہ زندگی کی اک رمق باقی نہیں بیمار میں کون جیتا ،

درد اور آنسو چھپے ہوتے ہیں ہر فنکار میں Read More »

تلخ لہجے میں گفتگو کرکے

تلخ لہجے میں گفتگو کرکے دل کو ٹھکرا دیا لہو کر کے جو نہ سمجھا تھا مجھ کو اے واعظ کیا بتاتی اسے وضو کرکے سخت بد حالیوں کا موسم تھا وقت ساکن تھا گل کو بو کر کے جب رقیبوں میں خوش وہ رہنے لگا کیا کروں خود کو خوبرو کر کے بخت کا

تلخ لہجے میں گفتگو کرکے Read More »

محبت مر بھی سکتی ھے

Mohabat Mar bhi sakti hay نظم یہ کس نے کہہ دیا تم سے محبت مر نہیں سکتی۔۔محبت مر بھی سکتی ھے۔۔محبت مر بھی جاتی ھے۔جسے تم زندگی جانو تمہیں وہ روگ کہتا ہوکہ جس نے خود ہی چاہت سے تمہارا ہاتھ تھاما ہووہ اپنے دل کے دروازے تمہیں پر بند کردے تومحبت مر بھی سکتی

محبت مر بھی سکتی ھے Read More »