زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں
زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیںہم اُسی موڑ پر کھڑے ہوئے ہیں اِک دعا ہے جو مانگنی ہے ہمیںدر پہ با چشمِ تر کھڑے ہوئے ہیں سحر ہے ، بد دعا ہے یا ہے نظرسب شجر بے ثمر کھڑے ہوئے ہیں ایک چکر ہے پاؤں میں ایساراستے میں سفر کھڑے ہوئے ہیں روشنی فرش پر
زندگی چھوڑ کر کھڑے ہوئے ہیں Read More »