کیوں جدائی ہوئی کیوں بڑھے فاصلے تم سے کیسے کہیں
ہم نے تبدیل کیوں کر لیے راستے تم سے کیسے کہیں
ہم جو بچھڑے سبب اس کا ہم تم نہ تھے صرف تقدیر تھی
اور تقدیر سے کوئی کیسے لڑے تم سے کیسے کہیں
کام آئی نہ کچھ اپنی دیوانگی عمر کیسے کٹی
بجھ گئے کیوں امیدوں کے سارے دیے تم سے کیسے کہیں
کچھ زمانے نے بھی عشق کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں
مسئلے کچھ ہمارے بھی حائل رہے تم سے کیسے کہیں
لوگ چہرے پہ چہرہ سجا کر ملے ہم نہ سمجھے مگر
آستینوں میں تھے سانپ پالے ہوئے تم سے کیسے کہیں
اک وہی بات جو تم سے کہنی تھی وہ ان کہی رہ گئی
بس ہر اِک موڑ پر ہم یہ سوچا کیے تم سے کیسے کہیں
حمیرا راحت