MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

امی نے دی دودھ ملائی

امی نے دی دودھ ملائی ننھے نے خوش ہو کر کھائی گڑیا بھی پھر دوڑ ی آئی چمچہ پیالی ساتھ میں لائی مجھ کو بھی دو دودھ ملائی بیتابی آنسو لے آئی سب نے بولا روتی کیوں ہو صبر کا دامن کھوتی کیوں ہو روتے دیکھ کے بولا بھائی تم یہ کھا لو دودھ ملائی

امی نے دی دودھ ملائی Read More »

ہے کون میرے عشق میں بیمار پوچھ مت

Hay kon meray Ishq main beemaar pooch mat غزل ہے کون میرے عشق میں بیمار پوچھ متہوجاؤں گا ہے خوف گنہ گار پوچھ مت میں کون ہوں میں کیا ہوں سبھی جانتا تو ہےمیں نے اٹھائی کس لیے تلوار پوچھ مت دو چار دن تو شہر میں آئینہ لے کے گھومکس جرم میں ہوا ہوں

ہے کون میرے عشق میں بیمار پوچھ مت Read More »

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روشہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاباپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیںتھی عجب نازاں بخود اس باٹ* کی اِک اِک روش ڈالتی

ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش Read More »

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

ہولی جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیاور دف کے شور کھڑکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیپریوں کے رنگ دمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کیخم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی Read More »

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہم مے بھی ہے مینا بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی نہیںدل میں آتا ہے لگا دیں آگ مے خانے کو ہم کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبرکیا ترے عاشق ہوے تھے درد و غم

دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم Read More »

عِشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہے

عِشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہےدِل کا یہ رنگ بنایا ہے کہ جی جانتا ہے ناز اُٹھانے میں جفائیں تو اُٹھائِیں، لیکنلُطف بھی ایسا اُٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے زخم، اُس تیغ نِگہ کا ، مِرے دِل نے ہنس ہنساِس مزیداری سے کھایا ہے کہ جی جانتا ہے اُس کی

عِشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانتا ہے Read More »

نہ مَیں دِل کو اب ہر مکاں بیچتا ہُوں

نہ مَیں دِل کو اب ہر مکاں بیچتا ہُوںکوئی خوب رَو لے تو ہاں بیچتا ہُوں وہ مَے جس کو سب بیچتے ہیں چُھپا کرمیں اُس مَے کو یارو ! عیاں بیچتا ہُوں یہ دِل، جس کو کہتے ہیں عرشِ الٰہیسو اِس دِل کو یارو! میں یاں بیچتا ہُوں ذرا میری ہّمت تو دیکھو عَزِیزو

نہ مَیں دِل کو اب ہر مکاں بیچتا ہُوں Read More »

کُچھ تو ہوکر دُو بَدُو، کُچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دِیا

کُچھ تو ہوکر دُو بَدُو، کُچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دِیادِل پہ جو گُذرا تھا ، ہم نے آگے اُس کے کہہ دِیا باتوں باتوں میں جو ہم نے، دردِ دِل کا بھی کہا !سُن کے بولا، تُو نے یہ کیا بکتے بکتے کہہ دِیا اب کہیں کیا اُس سے ہمدم ! دِل لگاتے وقت آہتھا

کُچھ تو ہوکر دُو بَدُو، کُچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دِیا Read More »

گُل رنگی و گُل پیرَہَنی گُل بَدَنی ہے

گُل رنگی و گُل پیرَہَنی گُل بَدَنی ہےوہ نامِ خُدا حُسن میں سچ مُچ کی بنی ہے گُلزار میں خُوبی کے اب اُس گُل کے برابربُوٹا ہے نہ شمشاد نہ سرو چَمَنی ہے انداز بَلا، ناز، سِتم، قہر، تبسّماور تِس پہ غضب کم نگہی، کم سُخَنی ہے اُس گورے بدن کا کوئی کیا وصف کرے

گُل رنگی و گُل پیرَہَنی گُل بَدَنی ہے Read More »

ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا

ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشایا رب ! تِری قُدرت میں ہےہر آن تماشا لے عرش سےتا فرش نئے رنگ، نئے ڈھنگہر شکل عجائب ہے، ہر اِک شان تماشا افلاک پہ تاروں کی جَھلکتی ہے طلِسماتاور رُوئے زمیں پر گُل و ریحان تماشا جِنّات، پَری، دیو، ملک، حوُر بھی نادراِنسان عجوبہ ہیں تو

ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا Read More »