MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​

ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں،مت دیس بدیس پھر مارا​قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا​ کیا بدھیا بھینسا بیل شترکیا کوئی پلا سر بھارا​کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر،کیا آگ دھواں کیا انگارا​ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​ Read More »

اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے

ہے دنیا جس کا نانْو یاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اورسستوں کو سستی ہے یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں، ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو،

اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے Read More »

مہندی

میاں یہ کس پری کے ہاتھ پر عاشق ہوئ مہندیکہ باطن میں ہوئ ہے سرخ ظاہر میں ہری مہندی کرے خونیں دلوں سے کیوں نہ ہر دم ہمسری مہندیکٹی ، کچلی گئ ، ٹوٹی ، چھنی ، بھیگی پسی مہندی جب اتنے دکھ سہے جب اس کے ہاتھوں میں لگی مہندیحنا کی مچھلیاں اس کے

مہندی Read More »

بھیا لائے اک کمپیوٹر

بھیا لائے اک کمپیوٹرساری دنیا اس کے اندر کھیل ہیں اس میں پیارے پیارےعلم و ہنر کے اس میں خزانے گوگل پر سب مل جاتا ہےخبریں بھی یہ دے دیتا ہے انٹر نیٹ بھی لگ جاتا ہےکام یہ سارے کر جاتا ہے بجلی سے یہ چل جاتا ہےبجلی جائے سو جاتا ہے نسیم شیخ

بھیا لائے اک کمپیوٹر Read More »

چڑیا چڑیا سن لے تو

چڑیا چڑیا سن لے تو دانا دنکا چن لے تو تیرے بچے بھوکے ہیں چوں چوں چوں چوں کرتے ہیں تیری راہیں تکتے ہیں مجھ کو پیارے لگتے ہیں تیرا گانا سنتے ہیںدنگا مستی کرتے ہیں چڑیا چڑیا آجا توان کو دانا دے جا تو نسیم شیخ

چڑیا چڑیا سن لے تو Read More »

اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے

اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے نام کوئل ہے اس کا سریلی ہے یہ گانا گاتی ہے بیٹھے درختوں پہ جب آنکھیں اس کی مٹکتی ہیں کوکے وہ جب پیڑ پودوں پہ اس کا بنا گھونسلہ رات ڈھلتے ہی اس کا چلے قافلہدانہ دنکا یہ کھاتی ہے آرام سےگیت پھر یہ سناتی ہے

اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے Read More »

گرتی دیوار کا سہارا ہوں

گرتی دیوار کا سہارا ہوںمیں تمہارا تھا, میں تمہارا ہوں تو میری زندگی کا محور ہےمیں تری ذیست کا خسارا ہوں گو برا ہوں ہر اک کی نظروں میںپھر بھی ماں کی نظر کا تارا ہوں غیر کی بات کیوں سمجھتے ہومیں نے جب کہہ دیا تمہارا ہوں! چاند کے پاس جو چمکتا ہےمیں وہی

گرتی دیوار کا سہارا ہوں Read More »

تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہوا

تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہواہونا تھا جو اس وقت ادا کیوں نہیں ہوا یوں تو غزل ہی روز نئی کہتا ہوں لیکنپھر سوچتا ہوں شعر نیا کیوں نہیں ہوا ہم کو کوئی گلہ نہیں اپنے نصیب سےدل پوچھتا ہے جاں وہ ترا کیوں نہیں ہوا تو نے رچائی تھی جو مری چاہ

تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہوا Read More »

میں اپنی منزل سے ھٹ چکا تھا۔

میں اپنی منزل سے ھٹ چکا تھا۔مجھے وہ رستہ لپٹ چکا تھا۔ میں رشتے ناتے نباہ کر بھی۔ہزار حصوں میں بٹ چکا تھا ۔ بچھڑ کے تجھ سے وجود میرا۔خودی میں اپنی سمٹ چکا تھا۔ عجیب تھا اپنا عشق لوگو!جو بنکے دیمک چمٹ چکا تھا۔ کہ اب مقابل تھے دوست میرے۔میں دشمنوں سے نمٹ چکا

میں اپنی منزل سے ھٹ چکا تھا۔ Read More »

جب بھی تیرا خیال آتا ہے

جب بھی تیرا خیال آتا ہےدل میں دھم دھم دھمال آتا ہے اسکے در پر جو سر جھکاتا ہےدل سے دنیا نکال آتا ہے اپنے حصے میں ماں کو مانگ لیاتیرے حصّے میں مال آتا ہے اس گلی میں ہے ایسا کیا جادو!ہر کوئی دل نکال آتا ہے اسکے پاؤں زمیں نہیں چھوتےجس کے حصے

جب بھی تیرا خیال آتا ہے Read More »