MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا

نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا خود کو یوں دشت۔طلب میں در بدر میں نے کیا میں نے خود رکھی تھی شہر۔جاں میں وحشت ہجر کی یوں تری فرقت کے لمحوں کو شرر میں نے کیا عرصئہ عمر۔رواں میں کچھ طلب رکھی نہیں شہرِ ناپرساں میں جینے کا ہنر میں نے کیا

نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا Read More »

میں آنکھوں سے در و دیوار پر منظر بناتی ہوں

میں آنکھوں سے در و دیوار پر منظر بناتی ہوںکبھی پاوں۔کبھی صحرا کبھی اک گھر بناتی ہوں بنانا خوش بہت آتا ھے مجھ کو ہجر لمحوں کاکبھی تو بھول جاتی ہوں کبھی اکثر بناتی ہوں چٹخ جائے نہ آنکھوں کی تپش سے خواب کی دنیا۔میں چشم۔نم کے سائے میں ترا پیکر بناتی ہوں دھنک رنگوں

میں آنکھوں سے در و دیوار پر منظر بناتی ہوں Read More »

مسترد سارے قصیدے ہر اشارا مسترد

مسترد سارے قصیدے ہر اشارا مستردتو نے جو کچھ بھی لکھا سارے کا سارا مسترد مسترد کردوں گی اک دن زندگی بھی دیکھنااب کتاب۔عمر کا ہر گوشوارا مسترد اپنے ہر اک شعر میں جب تو غلو شامل کرے ایک دو غزلیں نہیں۔دیوان سارا مسترد جب تلک حرف و بیاں میں ہجر کی وحشت نہ ہو

مسترد سارے قصیدے ہر اشارا مسترد Read More »

جب اس نے گفتگو میں ہجر و وصال باندھے۔۔۔

جب اس نے گفتگو میں ہجر و وصال باندھے۔۔۔ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے۔۔۔ اب عمر کٹ چکی ھے اب کیا شمار کرنا۔آنچل میں زندگی نے کتنے ملال باندھے ۔۔۔۔۔ اس عہد کے ستم کو لکھے گا کون آخر۔ہر شخص ہی سخن میںحسن و جمال باندھے۔۔۔ یہ کونسا قرینہ اس میں

جب اس نے گفتگو میں ہجر و وصال باندھے۔۔۔ Read More »

افسانہِ دنیا کا ہے کردار محبت

افسانہِ دنیا کا ہے کردار محبت ہر بار ملے درد تو ہر بار محبت۔۔ موسم بھی محبت در و دیوار محبت۔۔بس صرف محبت۔مری تکرار محبت۔۔ میں شہرِ محبت کی مکین ہوں سو ہیں میرے۔۔ جذبے بھی محبت۔مرا پندار محبت۔۔ یوں تو رہے بدنام بھی شوریدہ سری میں۔۔پر اہل۔جنوں کو نہیں دشوار محبت۔۔ کچھ لفظ دعاؤں

افسانہِ دنیا کا ہے کردار محبت Read More »

بعد از حرم کہیں بھی ٹھکانا تو ہے نہیں۔۔

بعد از حرم کہیں بھی ٹھکانا تو ہے نہیں۔۔ اٹھ کر کہیں مدینے سے جانا تو ہے نہیں۔۔ میرے نبی سنیں گے مری آہ و زاریاں۔۔یہ حال۔دل ہے کوئ فسانا تو ہے نہیں۔۔ ان کو بنا کے بھیجا نبی آخر الزماں ۔۔رنج و الم کو ان سے چھپانا تو ہے نہیں۔۔ جن سیڑھیوں پہ نعت

بعد از حرم کہیں بھی ٹھکانا تو ہے نہیں۔۔ Read More »

پھر مجھ کو بلائیں گے سرکار مدینے میں

پھر مجھ کو بلائیں گے سرکار مدینے میں رحمت کا لگا ہوگا دربارمدینے میں۔۔ جینا ہے مدینے میں مرنا ہے وہیں مجھ کو۔۔اے کاش پہنچ جاؤں اک بار مدینے میں۔۔ جاؤں گی میں سر کے بل آقا کی سلامی کو۔۔دن رات بسر ہوں گے سر شار مدینے میں۔۔ سن لو اے جہاں والو۔وہ سب کے

پھر مجھ کو بلائیں گے سرکار مدینے میں Read More »

مری مدحتوں کا محور ہے فقط تری بڑائی

مری مدحتوں کا محور ہے فقط تری بڑائیمرا ورد تیری وحدت تری شان۔کبریائی تری رحمتوں کی طالب مری زندگی ہمیشہ تری عظمتوں تلک ہو مری فکر کی رسائی مری جستجو کا حاصل ترا لطف۔۔تیری قربت ترے ذکر نے ہمیشہ مجھے روشنی دکھائی مری فکر۔نارسا کو دیا حمد کا سلیقہ تھا مرے قلم کو ورنہ کہاں

مری مدحتوں کا محور ہے فقط تری بڑائی Read More »

میں کعبہ دل میں آنکھوں میں مدینہ لے کے جاؤں گی

میں کعبہ دل میں آنکھوں میں مدینہ لے کے جاؤں گی جو دنیا سے سوا ہے وہ خزینہ لے کے جاؤں گی۔۔ ۔۔میں آئ تھی دل۔مضطر میں کتنے وسوسے لے کر۔۔کہ اب سینے میں دل مثل۔نگینہ لے کے جاؤں گی۔۔ ۔۔وہی جو ڈگمگاتا تھا کہ اب ڈوبا۔۔کہ جب ڈوبا۔۔مدینے سے سر۔ساحل سفینہ لے کے جاؤں

میں کعبہ دل میں آنکھوں میں مدینہ لے کے جاؤں گی Read More »

سارے گلے رکھے ہیں اس نے کتاب کر کے۔

سارے گلے رکھے ہیں اس نے کتاب کر کے۔ ۔اب کیا سخن لکھیں ہم اس کو جواب کر کے۔ ۔۔ہم پر ہی قرض اس کی دلداریاں نہیں ہیں۔ ۔بیٹھے ہیں فرقتوں کا ہم بھی حساب کر کے۔ ۔۔وہ جا چکا ہے پھر بھی خوشبو سی ہر طرف ہے ۔گزرا ہے وصل موسم دل کو گلاب

سارے گلے رکھے ہیں اس نے کتاب کر کے۔ Read More »