نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا
نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا خود کو یوں دشت۔طلب میں در بدر میں نے کیا میں نے خود رکھی تھی شہر۔جاں میں وحشت ہجر کی یوں تری فرقت کے لمحوں کو شرر میں نے کیا عرصئہ عمر۔رواں میں کچھ طلب رکھی نہیں شہرِ ناپرساں میں جینے کا ہنر میں نے کیا
نارسائی کی تھکن میں اک سفر میں نے کیا Read More »